Votes divided in the name of religion in India, BJP and Congress face off
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں حالیہ ریاستی انتخابات کے نتائج نے ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی سیاسی تقسیم کو مزید واضح کر دیا ہے۔ انتخابی نتائج کے مطابق ہندو ووٹرز کی بڑی تعداد وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی کے ساتھ کھڑی نظر آئی، جبکہ مسلم ووٹرز نے زیادہ تر کانگریس اور دیگر سیکولر جماعتوں کی حمایت کی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق گزشتہ ماہ چار ریاستوں اور ایک وفاقی علاقے میں ہونے والے انتخابات نے بھارتی سیاست میں مذہبی بنیادوں پر ووٹنگ کے رجحان کو مزید مضبوط کر دیا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی ہندوتوا پالیسیوں کے باعث ملک میں سیاسی صف بندیاں تیزی سے مذہبی رخ اختیار کر رہی ہیں۔
بھارت کی تقریباً 1.42 ارب آبادی میں ہندوؤں کا تناسب قریب 80 فیصد جبکہ مسلمانوں کا تناسب تقریباً 14 فیصد ہے، جس کے باعث مذہبی بنیادوں پر ووٹنگ کا رجحان انتخابی نتائج پر گہرا اثر ڈال رہا ہے۔
آسام میں کانگریس کے 19 منتخب ارکان میں سے 18 مسلمان ہیں، جبکہ بی جے پی نے 126 رکنی اسمبلی میں 82 نشستیں جیت کر حکومت برقرار رکھی۔ دوسری جانب مسلم حمایت یافتہ جماعت اے آئی یو ڈی ایف کی نشستیں 16 سے کم ہو کر صرف دو رہ گئیں، جسے سیاسی مبصرین مسلم ووٹ بینک کی نئی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔
مغربی بنگال میں بھی بی جے پی نے پہلی بار واضح کامیابی حاصل کرتے ہوئے 294 رکنی اسمبلی میں 207 نشستیں جیت لیں۔ بی جے پی نے آسام اور مغربی بنگال دونوں میں ایک بھی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا۔
متوقع وزیراعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے نتائج کو ہندوتوا کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فتح ہندو ووٹرز کے اعتماد کا اظہار ہے۔
دوسری جانب اے آئی یو ڈی ایف کے سربراہ بدرالدین اجمل کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت میں مسلمان خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں، اسی وجہ سے وہ اب بڑی اپوزیشن جماعتوں کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔





