Israel-Lebanon ceasefire extended, Iran talks still stalled
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری نازک جنگ بندی میں مزید تین ہفتوں کی توسیع کر دی گئی ہے، تاہم امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور رکے ہوئے مذاکرات نے خطے میں غیر یقینی کو برقرار رکھا ہوا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک کے سفیروں سے ملاقات کے دوران سیزفائر بڑھانے کا اعلان کیا، حالانکہ حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں اور حزب اللہ کی جانب سے راکٹ فائر کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ابتدائی جنگ بندی اتوار کو ختم ہونا تھی، جسے اب مزید وقت دے دیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایک طرف امن کے امکانات ظاہر کیے، تو دوسری جانب ایران کے خلاف سخت لہجہ برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ امریکا کسی دباؤ میں نہیں، تاہم وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ اسی دوران مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ ہوا ہے اور تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھی خطے میں پہنچ چکا ہے۔
ایران کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ تہران میں جنگ بندی کے بعد پہلی بار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جبکہ ایرانی میڈیا کے مطابق فضائی دفاعی نظام کو متحرک کیا گیا۔ دوسری جانب اسرائیل نے ان حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
امریکی فوج کے مطابق اب تک 30 سے زائد جہازوں کو راستہ تبدیل کرنے یا واپس جانے پر مجبور کیا جا چکا ہے، جبکہ ایران نے واضح کیا ہے کہ ناکہ بندی ختم ہونے تک آبنائے ہرمز مکمل طور پر نہیں کھولی جائے گی۔
دوسری جانب پاکستان میں متوقع امن مذاکرات بھی غیر یقینی کا شکار ہیں۔ اگرچہ صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ آئندہ چند روز میں مذاکرات بحال ہو سکتے ہیں، تاہم تاحال کوئی وفد اسلام آباد نہیں پہنچا۔ اس کے باوجود دارالحکومت میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔





