Trump's big claim Direct and indirect contacts with Iran, hope for ceasefire
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسیوس کی خبر کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست اور بالواسطہ رابطے جاری ہیں، جس سے ممکنہ جنگ بندی یا معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف سفارتی ذرائع کے ذریعے بات چیت ہو رہی ہے اور انہیں امید ہے کہ اس عمل سے کوئی مثبت نتیجہ نکل سکتا ہے۔ انہوں نے ایرانی قیادت کو معقول قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر پیش رفت جاری رہی تو کسی سمجھوتے تک پہنچنا ممکن ہے، تاہم انہوں نے اس امکان کو بھی مسترد نہیں کیا کہ مذاکرات ناکام بھی ہو سکتے ہیں۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے خطے کی صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے دباؤ میں اضافہ اور ایران کے سخت مؤقف نے حالات کو مزید حساس بنا رکھا ہے، جبکہ تہران واضح کر چکا ہے کہ وہ کسی یکطرفہ یا دباؤ پر مبنی معاہدے کو قبول نہیں کرے گا۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مختلف ممالک پسِ پردہ کردار ادا کر رہے ہیں تاکہ دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ چند دنوں میں رابطوں میں مزید تیزی آ سکتی ہے، جو کسی ممکنہ جنگ بندی کی بنیاد بن سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ رابطے کسی ٹھوس معاہدے میں تبدیل ہو جاتے ہیں تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت اور توانائی مارکیٹس پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے




