Briefing to Congress US declares Pakistan a key regional partner
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق واشنگٹن میں ٹرمپ انتظامیہ کے جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے نامزد عہدیدار اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ پال کپور نے امریکی کانگریس کو بتایا ہے کہ پاکستان خطے میں امریکا کا ایک اہم شراکت دار ہے اور واشنگٹن پاکستان کے ساتھ تجارت، اقتصادی تعاون اور سکیورٹی روابط کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔
ہاؤس فارن افیئرز کمیٹی کی ذیلی کمیٹی برائے جنوبی و وسطی ایشیا کے سامنے گواہی دیتے ہوئے پال کپور نے کہا، پاکستان خطے میں ایک اور اہم پارٹنر ہے۔ ہم پاکستان کے ساتھ مل کر اس کے اہم معدنی وسائل کی صلاحیت کو بروئے کار لانے پر کام کر رہے ہیں۔ امریکی حکومت کی ابتدائی مالی معاونت اور نجی شعبے کی مہارت دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ توانائی اور زراعت کے شعبوں میں دوطرفہ تجارت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان انسداد دہشت گردی تعاون جاری ہے۔ ان کے مطابق، یہ تعاون پاکستان کو داخلی سکیورٹی خطرات سے نمٹنے میں مدد دیتا ہے اور ایسے سرحد پار خطرات کا بھی مقابلہ کرتا ہے جو امریکا یا اس کے شراکت داروں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
سماعت کے دوران امریکی قانون سازوں نے عسکریت پسندی اور خطے میں سکیورٹی صورتحال سے متعلق سوالات کیے۔ ایک سوال پر پال کپور نے کہا کہ بطور منظم تنظیم جنوبی و وسطی ایشیا کے شدت پسند گروہوں کی امریکا میں سرگرمی کے شواہد نہیں، تاہم انفرادی عناصر کہیں بھی موجود ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے میں ایک چیلنج یہ بھی ہے کہ کم تعداد میں افراد عام آبادی میں گھل مل جاتے ہیں جس سے ان کی شناخت مشکل ہو جاتی ہے۔
سماعت میں چین کے بڑھتے اثر و رسوخ اور بھارت کے کردار پر بھی بات ہوئی۔ پال کپور نے کہا کہ امریکا کی حکمت عملی یہ ہے کہ چین یا کوئی ایک طاقت خطے میں بالادستی قائم نہ کر سکے، جبکہ ایک مضبوط اور خودمختار بھارت چین کے اثر کو محدود کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
افغانستان کے حوالے سے امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکا قطر میں قائم کیمپ اس سیلیہ بند کرنے کے لیے افغان باشندوں کو وطن واپسی کی مالی پیشکش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق 2025 کے آغاز سے وہاں 1,100 سے زائد افراد رکھے گئے تھے، جبکہ اب تک تقریباً 150 افراد نے ادائیگی قبول کر کے واپسی اختیار کی، تاہم ان کی واپسی کے بعد صورتحال کے بارے میں معلومات واضح نہیں۔



