Trump's categorical stance China not needed on Iran issue
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی ختم کرنے کیلئے انہیں چین کی مدد درکار نہیں، جبکہ ان کا مؤقف ہے کہ تہران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا امریکا کی اولین ترجیح ہے، چاہے اس کے باعث امریکی عوام کو معاشی مشکلات کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
چین روانگی سے قبل وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے معاملے میں ایک نہ ایک طریقے سے کامیاب ہوگا، چاہے وہ پرامن راستہ ہو یا کچھ اور۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ اس مسئلے کے حل کیلئے چینی صدر شی جن پنگ کی مدد ضروری ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرتے ہوئے عراق اور پاکستان کے ساتھ تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل سے متعلق نئے انتظامات کیے ہیں جس سے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان گزشتہ ماہ ہونے والے رابطوں میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ کسی بھی ملک کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے ٹول وصول نہیں کرنا چاہیے۔
ٹرمپ جمعرات اور جمعہ کو بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے جہاں ایران جنگ، عالمی تجارت اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال اہم موضوعات ہوں گے۔ امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن چین سے توقع رکھتا ہے کہ وہ تہران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے میں کردار ادا کرے۔
دوسری جانب ایران جنگ کے معاشی اثرات امریکا میں بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ امریکی محکمہ محنت کے مطابق اپریل میں مہنگائی کی شرح میں گزشتہ تین برس کا سب سے بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ خوراک، کرایوں اور ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
پینٹاگون کے مطابق ایران جنگ پر امریکا اب تک 29 ارب ڈالر سے زائد خرچ کرچکا ہے، جبکہ بڑھتے عسکری اخراجات اور توانائی بحران نے ٹرمپ انتظامیہ پر سیاسی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔




