China's economic progress has become a challenge to Western monopolies
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) معاشی ماہر بشریات ، پروفیسر اور مصنف جیسن ہیکل نے اپنے ایک آرٹیکل اصل وجہ مغرب کا چین کے خلاف گرمجوشی ہے۔ میں کہا ہے کہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران چین کے خلاف مغرب کے سخت ہوتے رویے کی ایک بڑی وجہ اس کی تیز رفتار معاشی اور صنعتی ترقی ہے۔ چین نہ صرف عالمی منڈی میں مغربی اجارہ داریوں کو چیلنج کر رہا ہے بلکہ وہ اس معاشی نظام پر بھی سوال اٹھا رہا ہے جس نے طویل عرصے تک مغربی طاقتوں کو فائدہ پہنچایا۔
چین کی ترقی مغربی کمپنیوں کے منافع پر براہِ راست دباؤ ڈال رہی ہے، جبکہ ساتھ ہی اس عالمی معاشی ڈھانچے کو بھی کمزور کر رہی ہے جس کے تحت ترقی پذیر ممالک خام مال اور درمیانی درجے کی مصنوعات فراہم کرتے ہیں اور ترقی یافتہ ممالک زیادہ منافع بخش مصنوعات اور خدمات فروخت کرتے ہیں۔
ناقدین کے مطابق مغربی معاشی برتری نے انہیں عالمی جنوب (گلوبل ساؤتھ) کے ممالک پر انحصار کا ایک ایسا نظام مسلط کرنے کی اجازت دی، جس کے نتیجے میں وسائل اور دولت کا بڑا حصہ ترقی یافتہ معیشتوں کی طرف منتقل ہوتا رہا۔ یہی عمل مغربی ممالک کی اقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری کے لیے ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
ان ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مغرب کی یہ اجارہ داری کمزور ہوتی ہے تو وسائل اور سرمائے کا یہ بہاؤ بھی متاثر ہوگا، جس سے موجودہ عالمی معاشی توازن بدل سکتا ہے۔ اسی تناظر میں بعض مبصرین چین اور مغرب کے درمیان بڑھتی ہوئی معاشی، تجارتی اور تزویراتی کشیدگی کو دیکھتے ہیں۔
ان کے مطابق عالمی معاشی نظام میں آنے والی یہ تبدیلیاں مستقبل میں بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلے کو مزید شدت دے سکتی ہیں، کیونکہ موجودہ ڈھانچے میں کسی بھی بڑی تبدیلی کے اثرات براہِ راست عالمی سیاست اور معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔




