Israel passes controversial death penalty law for Palestinians, facing internal and external pressure
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائٹرز خبر کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ نے ایک انتہائی متنازع قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت مہلک حملوں میں ملوث فلسطینیوں کو سزائے موت دی جا سکے گی، جبکہ اس اقدام پر عالمی سطح پر تشویش اور تنقید میں تیزی آ گئی ہے۔
قانون کے مطابق فوجی عدالتوں میں سزا پانے والے افراد کے لیے پھانسی کو بنیادی سزا کے طور پر شامل کیا گیا ہے، اور سزا سنائے جانے کے بعد 90 دن کے اندر عملدرآمد کی شق بھی رکھی گئی ہے، جبکہ معافی یا رعایت کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔ تاہم بعض مخصوص حالات میں عمر قید کی سزا دینے کا اختیار بھی موجود ہوگا۔
وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی اتحادی حکومت کے تحت منظور ہونے والے اس بل کو 120 رکنی کنیسٹ میں 62 ارکان کی حمایت حاصل ہوئی۔ اس قانون کو آگے بڑھانے میں سخت گیر وزیر Iایتاماز بین گویر پیش پیش رہے، جنہوں نے اسے دہشت گردی کے خلاف ضروری اقدام قرار دیا۔
اسرائیل نے 1954 میں قتل کے مقدمات میں سزائے موت ختم کر دی تھی، اور 1962 میں ایڈولف ایچ مین کی پھانسی کے بعد یہ سزا شاذ و نادر ہی استعمال ہوئی ہے۔
فلسطینی صدر محمود عباس نے اس قانون کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا اور کہا کہ ایسے اقدامات فلسطینی عوام کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔ دوسری جانب مزاحمتی تنظیموں نے اس فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔
انسانی حقوق تنظیموں اور قانونی ماہرین نے بھی اس قانون کو چیلنج کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اسرائیل کے جمہوری تشخص کو متاثر کر سکتا ہے۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی سمیت کئی ممالک نے بھی اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔





