Impact of Middle East operations US arms stockpiles under pressure, important meeting at the White House
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائٹرز کی خبر کے مطابق ایران پر حالیہ امریکی حملوں کے بعد اسلحہ ذخائر میں نمایاں کمی کے خدشات کے پیش نظر امریکی انتظامیہ نے بڑے دفاعی اداروں کے سربراہان کو وائٹ ہاؤس میں اہم اجلاس کے لیے مدعو کر لیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق اس ملاقات کا مقصد ہتھیاروں کی تیاری کی رفتار میں فوری اضافہ اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی سرگرمیوں کے لیے درکار اسلحے کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ اجلاس میں لاک ہیڈ مارٹن اورآر ٹی ایکس کارپوریشن سمیت دفاعی صنعت کے بڑے کھلاڑیوں کی شرکت متوقع ہے، تاہم گفتگو کی حساس نوعیت کے باعث حکام نے باضابطہ مؤقف جاری نہیں کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پینٹاگون تقریباً 50 ارب ڈالر کے اضافی بجٹ پر کام کر رہا ہے جو ممکنہ طور پر جلد پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس رقم کا مقصد ایران سمیت حالیہ آپریشنز میں استعمال ہونے والے میزائلوں اور دیگر ہتھیاروں کی بھرپائی ہے۔ یاد رہے کہ 2022 میں یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد امریکہ اربوں ڈالر مالیت کا اسلحہ اپنے ذخائر سے فراہم کر چکا ہے، جبکہ غزہ اور اب ایران سے متعلق کارروائیوں نے بھی امریکی گولہ بارود اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے نظاموں پر اضافی دباؤ ڈالا ہے۔
حالیہ کارروائیوں میں امریکی افواج نے ٹوماہاک کروز میزائل،F-35 لائٹننگ IIاسٹیلتھ لڑاکا طیارے اور کم لاگت یک طرفہ حملہ آور ڈرونز استعمال کیے۔ ٹوماہاک بنانے والی کمپنی کا پینٹاگون کے ساتھ ایسا معاہدہ موجود ہے جس کے تحت سالانہ پیداوار کو بتدریج ایک ہزار میزائل تک بڑھایا جا سکتا ہے، جبکہ 2026 کے لیے 57 میزائل خریدنے کا منصوبہ ہے جن کی اوسط قیمت تقریباً 13 لاکھ ڈالر فی میزائل بتائی جاتی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ دفاعی کمپنیوں پر پیداوار کو ترجیح دینے کے لیے دباؤ بھی بڑھا رہی ہے۔ جنوری میں جاری ایک انتظامی حکم کے تحت ایسے ٹھیکیداروں کی نشاندہی کی جائے گی جو معاہدوں پر سست روی کے باوجود شیئر ہولڈرز کو منافع تقسیم کر رہے ہیں۔




