Global energy crisis Japan announces release of 80 million barrels of oil from reserves
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائٹرز کی خبر کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے پیش نظر جاپان نے اپنے اسٹریٹجک ذخائر سے تقریباً 80 ملین بیرل تیل جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو ملک کی 45 دن کی کھپت کے برابر ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام عالمی منڈی میں تیل کی دستیابی بہتر بنانے اور قیمتوں میں اضافے کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔
جاپان کی وزیر اعظم سَنائے تاکائیچی نے ایک نشری بیان میں کہا کہ جاپان 16 مارچ سے مرحلہ وار اپنے ذخائر جاری کرنا شروع کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر مربوط اقدام کے باضابطہ اعلان کا انتظار کیے بغیر جاپان پہلے ہی مارکیٹ میں سپلائی بڑھانے کے لیے قدم اٹھا رہا ہے تاکہ توانائی کی عالمی منڈی میں استحکام پیدا کیا جا سکے۔
یہ اقدام انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کی قیادت میں کیے جانے والے بڑے عالمی منصوبے کا حصہ ہے۔ ادارے نے اپنے 32 رکن ممالک کے اتفاق سے مجموعی طور پر 400 ملین بیرل تیل ہنگامی ذخائر سے جاری کرنے کی سفارش کی ہے، جسے اس کی تاریخ کا سب سے بڑا مربوط اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
جاپان کی وزارت معیشت، تجارت اور صنعت کے مطابق ابتدائی مرحلے میں نجی شعبے کے ذخائر سے تقریباً 15 دن کی کھپت کے برابر تیل جاری کیا جائے گا، جس کے بعد مارچ کے آخر میں ریاستی ذخائر سے مزید ایک ماہ کی سپلائی مارکیٹ میں لائی جائے گی۔
جاپان توانائی کے حوالے سے مشرقِ وسطیٰ پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جاپان اپنی تقریباً 95 فیصد تیل کی ضروریات اسی خطے سے حاصل کرتا ہے جبکہ 90 فیصد سے زائد سپلائی آبنائے ہرمز کے ذریعے آتی ہے۔ موجودہ جنگی صورتحال کے باعث اس اہم بحری راستے پر نقل و حمل متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جاپان میں پیٹرول کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے اور 9 مارچ تک اوسط قیمت 161.8 ین فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ سبسڈی کے ذریعے پیٹرول کی اوسط قیمت کو 170 ین فی لیٹر کے قریب رکھنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ صارفین پر بڑھتے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔





