Explosive rise in oil prices, sharp decline in global stock markets
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائٹرز کی خبر کے مطابق تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث پیر کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں شدید مندی دیکھنے میں آئی جبکہ سرمایہ کار مہنگائی میں ممکنہ اضافے اور شرح سود بڑھنے کے خدشات کے باعث محتاط ہو گئے ہیں۔
بین الاقوامی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک ہی دن میں تقریباً 27 فیصد بڑھ کر 117.58 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو کئی دہائیوں میں سب سے بڑا یومیہ اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے بھی برینٹ آئل کی قیمت میں تقریباً 28 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
امریکی خام تیل کی قیمت بھی 116.51 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جس سے دنیا بھر میں پیٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہونے کے خدشات نے عالمی توانائی مارکیٹ میں بے چینی بڑھا دی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سب سے زیادہ اثر ایشیائی اسٹاک مارکیٹس پر پڑا۔ جاپان کا نکیئی انڈیکس تقریباً 7 فیصد گر گیا، جبکہ جنوبی کوریا کی مارکیٹ میں 8 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔ چین کے سی ایس آیٔ 300 انڈیکس میں بھی تقریباً 1.7 فیصد کمی دیکھی گئی۔
امریکی اور یورپی فیوچر مارکیٹس بھی دباؤ کا شکار رہیں۔ ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں تقریباً 2 فیصد اور ناسڈیک فیوچرز میں 2.3 فیصد کمی آئی، جبکہ یورپ میں یورو اسٹاکس 50 اور ڈیکس فیوچرز میں 3 فیصد سے زائد گراوٹ دیکھی گئی۔
توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عالمی سطح پر مہنگائی بڑھنے کے خدشات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔ امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈ کی ییلڈ بڑھ کر تقریباً 4.20 فیصد تک پہنچ گئی۔
کرنسی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں نے ڈالر کو ترجیح دی۔ امریکی ڈالر جاپانی ین کے مقابلے میں مضبوط ہوا جبکہ یورو میں کمی دیکھی گئی۔



