Death toll in Iran exceeds 1,000 Bombings from Tehran to Isfahan, burial of Supreme Leader postponed
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) الجزیرہ کی خبر کے مطابق ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے پانچویں روز ہلاکتوں کی تعداد 1,045 تک جا پہنچی ہے جبکہ زخمیوں کی مجموعی تعداد 6 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملوں کا سلسلہ ہفتے سے جاری ہے اور مختلف شہروں میں سیکیورٹی تنصیبات کے ساتھ رہائشی علاقوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
بدھ کے روز دارالحکومت تہران، مقدس شہر قم اور صوبہ اصفہان کے متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے بسیج فورس اور داخلی سیکیورٹی کمانڈ سے وابستہ عمارتوں کو ہدف بنایا، جو پاسدارانِ انقلاب کے ڈھانچے کا حصہ سمجھی جاتی ہیں۔ ایرانی ذرائع کے مطابق متعدد رہائشی یونٹس بھی متاثر ہوئے۔
مقامی رپورٹس کے مطابق تقریباً 300 بچے اور نوعمر افراد زخمیوں میں شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق 28 فروری سے یکم مارچ کے دوران قریب ایک لاکھ افراد نے تہران چھوڑ دیا۔
ادھرانٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ اصفہان کے جوہری مقام کے قریب دو عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے، تاہم جوہری مواد رکھنے والی تنصیبات محفوظ ہیں اور کسی تابکار اخراج کا خطرہ نہیں۔
حملوں کی پہلی لہر میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شہید ہوئے تھے۔ سیکیورٹی خدشات کے باعث ان کی تدفین کی تقریبات مؤخر کر دی گئی ہیں۔
ایران نے جوابی کارروائی میں اسرائیل اور خلیجی خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ امریکا اور اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ بیشتر حملے ناکام بنا دیے گئے، تاہم کچھ فوجی اور شہری تنصیبات متاثر ہوئیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ تنازع کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے، جبکہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس ارغاش نے واشنگٹن پر سفارت کاری کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری یہ کشیدگی خطے کے سیاسی و عسکری توازن پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے اور صورتحال بدستور غیر یقینی ہے۔





