اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری ہیں، جہاں اتوار کو دو مختلف کارروائیوں میں کم از کم آٹھ فلسطینی جاں بحق ہوگئے۔
طبی عملے اور حماس کے زیر انتظام وزارت داخلہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں پانچ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
طبی ذرائع کے مطابق غزہ سٹی میں ایک فضائی حملے کے نتیجے میں تین فلسطینی جاں بحق ہوئے، جبکہ جنوبی شہر خان یونس کے مغربی علاقے میں کیے گئے ایک اور حملے میں پانچ پولیس اہلکار مارے گئے۔
اسرائیلی فوج نے خان یونس میں متعدد جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی، تاہم اس کارروائی کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ غزہ سٹی میں ہونے والے حملے پر اسرائیلی فوج کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
اسرائیل کا الزام ہے کہ حماس جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوبارہ اسلحہ جمع کر رہی ہے اور اسرائیلی فوج پر حملے کر رہی ہے۔ اسی مؤقف کی بنیاد پر اسرائیل نے غزہ میں اپنی کارروائیاں تیز کر رکھی ہیں۔
دوسری جانب حماس ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور اسرائیل پر جنگ بندی معاہدے کو کمزور کرنے کا الزام عائد کرتی ہے۔
امریکا کی ثالثی میں گزشتہ سال طے پانے والے جنگ بندی معاہدے میں غزہ کی تعمیر نو بھی شامل تھی، تاہم حماس کو غیر مسلح کرنے اور اسرائیلی فوج کے انخلا سے متعلق اختلافات کے باعث اس پر خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوسکی۔
اسرائیل اس وقت غزہ کے تقریباً دو تہائی علاقے پر کنٹرول رکھتا ہے اور بعض علاقوں کے رہائشیوں کو وہاں سے نکلنے کے احکامات بھی دے چکا ہے۔
غزہ کے باقی ایک تہائی حصے میں 20 لاکھ سے زائد فلسطینی رہائش پذیر ہیں، جہاں بڑی تعداد میں لوگ تباہ شدہ عمارتوں اور عارضی خیموں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اس علاقے میں حماس کا عملی کنٹرول برقرار ہے۔
غزہ کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں کم از کم 1,500 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس دوران اس کے چار فوجی بھی ہلاک ہوئے۔
فلسطینی حکام کے مطابق اکتوبر 2023 میں اسرائیل کی فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد سے اب تک 74 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں۔
یہ کارروائی حماس کے زیر قیادت جنگجوؤں کے جنوبی اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی، جس میں اسرائیلی حکام کے مطابق تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
