Angoor Adda Skirmish Pakistan terms Kabul’s stance a ‘pack of lies’

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی خبر کے مطابق وزارتِ اطلاعات و نشریات نے انگور اڈہ سرحدی علاقے میں پیش آنے والے واقعے سے متعلق افغان طالبان وزارتِ دفاع کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے۔

 پاکستانی حکام کے مطابق جنوبی وزیرستان کے علاقے میں افغان جانب سے بلااشتعال فائرنگ اور مارٹر گولے داغے گئے، جس کے نتیجے میں ایک مقامی شہری جاں بحق اور پانچ افراد زخمی ہوئے۔

وزارتِ اطلاعات کے فیکٹ چیک اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ افغان طالبان فورسز نے پاکستانی حدود میں غیر مسلح شہریوں اور سرحدی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔

 وزارت کے مطابق پاکستانی سکیورٹی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کی، جس کے دوران افغان طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا اور ان کی سات چوکیاں تباہ کردی گئیں۔

یہ بیان افغان وزارتِ دفاع کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی فوج نے بلااشتعال ڈرون حملوں کے ذریعے انگور اڈہ بازار اور افغان صوبے پکتیکا میں کمشنر کے دفتر کو نشانہ بنایا۔

 افغان حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ان کی فورسز نے جواباً پاکستانی فوجی اڈے اور سرحدی چوکیوں پر حملے کیے۔

پاکستانی وزارتِ اطلاعات نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کے سرکاری ترجمانوں کے بیانات حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش ہیں۔ وزارت نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ افغان طالبان کا طرزِعمل بھارت کے مفادات کے مطابق ہے۔

خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے بھی افغان جانب سے فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں پر حملے یا ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانیاں دی ہیں اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

انگور اڈہ پاک افغان سرحد کا ایک اہم گزرگاہی مقام ہے جہاں سرحدی خلاف ورزیوں اور دونوں جانب کشیدگی کے باعث حالات مسلسل حساس رہے ہیں۔

 اسلام آباد طویل عرصے سے کابل پر زور دیتا آیا ہے کہ وہ افغان سرزمین سے پاکستان میں حملے کرنے والے عسکریت پسند گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کرے۔