Imran Khan urges to accelerate movement for release, claims mental anguish due to isolation

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوزکی رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے اپنی رہائی کے لیے جاری تحریک کو تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان نے جمعے کو بتایا کہ پمز میں طبی معائنے کے دوران اپنے بھائی سے مختصر ملاقات ہوئی، جس میں عمران خان نے تنہائی اور انسانی رابطے کی کمی پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق عمران خان نے رہائی کی تحریک کو مزید تیز کرنے کا پیغام دیا، جس کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد نے 27 ستمبر کو بھرپور احتجاج کرنے کا اعلان کردیا۔

پی ٹی آئی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر عظمیٰ خان نے کہا کہ عمران خان کے مطابق انہیں انسانی میل جول سے محروم رکھا جا رہا ہے اور وہ اسے ذہنی اذیت قرار دیتے ہیں۔ ڈاکٹر عظمیٰ کے مطابق ان کے بھائی اضطراب کا شکار ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ کہیں ان کے ساتھ سابق مصری صدر محمد مرسی جیسا انجام نہ ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان گزشتہ 10 ماہ سے اخبارات یا ٹیلی ویژن تک رسائی نہ ہونے کے باعث ملک میں ہونے والی تازہ سیاسی پیش رفت سے بھی آگاہ نہیں۔

عمران خان کی صحت کے بارے میں ڈاکٹر عظمیٰ نے کہا کہ ان کا بلڈ پریشر معمول پر ہے، نظر میں بہتری آئی ہے اور آنکھ میں معمولی خون بہنے کی کیفیت باقی ہے۔ تاہم ان کے مطابق عمران خان نے بتایا کہ 10 اگست کو معائنہ کرنے والے ایک ڈاکٹر نے انہیں تنہائی میں رہنے کے باعث شدید اضطراب اور ذہنی دباؤ کا شکار قرار دیا تھا، جس سے ان کا بلڈ پریشر بھی بڑھا۔ ڈاکٹر عظمیٰ کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ جیل میں صحت سے متعلق شکایات پر ڈاکٹرز نے مناسب توجہ نہیں دی۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے حکومت پر سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو چند گھنٹوں کے طبی معائنے کے بعد طبی طور پر فٹ قرار دینا اور صبح سویرے اڈیالہ جیل واپس منتقل کرنا کئی سوالات پیدا کرتا ہے۔

ادھر پمز انتظامیہ نے وضاحت کی کہ عمران خان کے آنکھوں کے معائنے میں شفا انٹرنیشنل اسپتال کے دو ماہرین نے حصہ لیا جبکہ دیگر طبی معائنے پمز کے متعلقہ ماہرین نے کیے۔ انتظامیہ کے مطابق آنکھوں کے معائنے سے حاصل ہونے والی طبی رائے کو پمز میں ہونے والی دیگر تحقیقات کے نتائج کے ساتھ مدنظر رکھا گیا۔