Germany suffers diplomatic setback at the UN, unable to get a seat on the Security Council
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈی ڈبلیو کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والے انتخاب میں جرمنی سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشست حاصل کرنے میں ناکام رہا، جبکہ آسٹریا اور پرتگال نے مغربی یورپ اور دیگر ممالک کے گروپ سے دستیاب دو نشستیں اپنے نام کر لیں۔
193 رکنی جنرل اسمبلی میں کامیابی کے لیے دو تہائی اکثریت درکار تھی۔ پرتگال کو 134 اور آسٹریا کو 131 ووٹ ملے، جبکہ جرمنی صرف 104 ووٹ حاصل کر سکا۔
انتخابی نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈیفُل نے اسے مایوس کن نتیجہ قرار دیا، جبکہ چانسلر فریڈرش مرز نے کہا کہ جرمنی نے پورے اعتماد کے ساتھ اپنی امیدواری پیش کی تھی، تاہم یہ ناکامی اقوام متحدہ میں اس کے کردار کو متاثر نہیں کرے گی۔
واڈیفُل کے مطابق یوکرین جنگ میں جرمنی کی غیر متزلزل حمایت اور مشرق وسطیٰ کے تنازع میں اسرائیل کے حق میں اس کے مؤقف نے بعض رکن ممالک کے ووٹوں پر اثر ڈالا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس کھلے طور پر سلامتی کونسل میں جرمنی کی شمولیت کا مخالف رہا ہے۔
جرمنی، جو اقوام متحدہ کو مالی معاونت فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے، سلامتی کونسل میں اصلاحات اور ترقی پذیر ممالک کے کردار میں اضافے کا بھی حامی رہا ہے۔ تاہم اس کے باوجود وہ مطلوبہ حمایت حاصل نہ کر سکا۔
اسی انتخاب میں زمبابوے، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور کرغزستان بھی اپنے اپنے علاقائی گروپوں کی نمائندگی کرتے ہوئے سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشستوں کے لیے منتخب ہوئے۔
واضح رہے کہ 15 رکنی سلامتی کونسل اقوام متحدہ کا سب سے بااختیار ادارہ تصور کی جاتی ہے، جس کی قراردادیں قانونی حیثیت رکھتی ہیں۔ امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس اس کے مستقل ارکان ہیں اور ویٹو کا اختیار رکھتے ہیں۔ جرمنی آخری بار 2019-2020 میں سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن رہا تھا۔



