Government decides to convene budget meeting on June 5, IMF consultation ongoing
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے 5 جون کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بجٹ اجلاس طلب کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد وفاقی بجٹ برائے مالی سال 2026-27 پیش کیا جائے گا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس شام 5 بجے جبکہ سینیٹ کا اجلاس شام 6 بجے منعقد ہوگا۔ دونوں ایوانوں کے لیے ایجنڈا آئندہ چند روز میں جاری کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ کی تیاری آئی ایم ایف سے مشاورت کے تحت کی جا رہی ہے اور بیشتر مالی معاملات پر ابتدائی اتفاق رائے بھی ہو چکا ہے۔
حکومتی سطح پر تنخواہ دار طبقے اور پنشنرز کے لیے ریلیف پیکج پر بھی غور جاری ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور سینیٹر رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ حکومت وسیع بنیادوں پر ریلیف فراہم کرنے کی پالیسی پر کام کر رہی ہے، جس میں تنخواہ دار طبقہ خاص طور پر شامل ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت آئندہ بجٹ میں عوامی ریلیف کے لیے جامع حکمت عملی تیار کر رہی ہے اور جلد وزیراعظم شہباز شریف اس حوالے سے باضابطہ اعلان کریں گے۔
دوسری جانب معاشی ماہرین کے مطابق آئندہ مالی سال کا بجٹ بڑے پالیسی تبدیلیوں کے بجائے مالی نظم و ضبط اور استحکام کے تسلسل پر مرکوز ہوگا۔ تین سال سے جاری آئی ایم ایف پروگرام کے بعد حکومت کو اب ترقیاتی ضروریات اور مالیاتی سختی کے درمیان توازن قائم کرنے کا چیلنج درپیش ہے۔
رپورٹس کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو مالی سال 2026-27 میں تقریباً 15.3 کھرب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف دیا جا سکتا ہے، جس کے لیے 14 سے 20 فیصد تک نمو درکار ہوگی۔ تاہم مالی سال 2025-26 میں بھی ٹیکس اہداف میں کمی اور شارٹ فال کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔



