Xi Jinping's categorical stance in Beijing meeting, no compromise on Taiwan
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ڈان نیوزکی رپورٹ کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ تائیوان کے معاملے کو غلط انداز میں ہینڈل کیا گیا تو یہ امریکا اور چین کے درمیان سنگین تصادم کا باعث بن سکتا ہے۔ بیجنگ میں دونوں رہنماؤں کے درمیان اہم سربراہی ملاقات کا آغاز سخت سفارتی پیغامات کے ساتھ ہوا۔
گریٹ ہال آف دی پیپل میں ٹرمپ کا شاندار استقبال کیا گیا، جہاں فوجی بینڈ، توپوں کی سلامی اور سرخ قالین کے ذریعے امریکی صدر کو خوش آمدید کہا گیا۔ تقریب کے دوران شی جن پنگ نے واضح کیا کہ تائیوان چین اور امریکا تعلقات کا سب سے حساس مسئلہ ہے۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق شی جن پنگ نے کہا، اگر تائیوان کے معاملے کو درست انداز میں نہ سنبھالا گیا تو دونوں ممالک تصادم کی طرف جاسکتے ہیں، جو پورے خطے کو خطرناک صورتحال میں دھکیل سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس موقع پر شی جن پنگ کو عظیم رہنما اور دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور چین کے تعلقات مستقبل میں مزید بہتر ہوسکتے ہیں۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان تجارت، ایران جنگ، مصنوعی ذہانت، نایاب معدنیات کی برآمدات اور تائیوان جیسے معاملات پر اختلافات بدستور موجود ہیں۔
ٹرمپ کے وفد میں ایلون مسک، ایپل کے ٹم کک اور اینویڈیا کے جینسن ہوانگ سمیت بڑی امریکی کمپنیوں کے سربراہان بھی شامل ہیں۔ شی جن پنگ نے امریکی سرمایہ کاروں کو یقین دہانی کرائی کہ چین کی مارکیٹ مزید کھولی جائے گی اور کاروباری تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔
ایران جنگ بھی ملاقات کا اہم موضوع رہی۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ شی جن پنگ کے ساتھ ایران کے مسئلے پر تفصیلی گفتگو کریں گے، تاہم انہوں نے یہ واضح کیا کہ امریکا کو ایران تنازع حل کرنے کیلئے چین کی مدد کی ضرورت نہیں۔
دونوں رہنما گزشتہ برس طے پانے والے ایک سالہ ٹیرف ٹریوس میں توسیع پر بھی بات کریں گے۔




