Saudi Arabia's secret attacks on Iran revealed, new diplomatic turmoil in the region
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائٹرز کی خصوصی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی عرب نے ایران کی جانب سے ہونے والے حملوں کے جواب میں ایرانی سرزمین پر متعدد خفیہ فضائی کارروائیاں کیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ حملے مارچ 2026 کے آخری ہفتے میں کیے گئے، تاہم انہیں باضابطہ طور پر کبھی منظرعام پر نہیں لایا گیا۔
رپورٹ میں دو مغربی حکام اور دو ایرانی عہدیداروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ سعودی فضائیہ نے جوابی کارروائی کے طور پر ایران کے اندر مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا۔ اگرچہ ان اہداف کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، لیکن مبصرین اسے خطے میں سعودی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات نے بھی ایران کے خلاف محدود عسکری کارروائیاں کیں۔ تاہم دونوں ممالک کی حکمتِ عملی میں واضح فرق رہا۔ یو اے ای نے نسبتاً سخت مؤقف اپنایا، جبکہ سعودی عرب نے عسکری ردعمل کے ساتھ سفارتی رابطے بھی جاری رکھے۔
ذرائع کے مطابق سعودی حکام نے ایران کو خفیہ ذرائع سے واضح پیغام دیا کہ اگر حملے جاری رہے تو مزید سخت جواب دیا جائے گا۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بیک ڈور سفارتی رابطوں میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں کشیدگی کم کرنے پر غیر رسمی مفاہمت سامنے آئی۔
انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے ایران پروجیکٹ ڈائریکٹر علی واعظ نے کہا کہ دونوں ممالک اس نتیجے پر پہنچے کہ اگر جنگ مزید پھیلی تو اس کے اثرات پورے خطے کیلئے ناقابلِ برداشت ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ صورتحال “اعتماد نہیں بلکہ مشترکہ مفاد” کی بنیاد پر پیدا ہوئی۔
رائٹرز کے مطابق مارچ کے آخری ہفتے میں سعودی عرب پر 105 سے زائد ڈرون اور میزائل حملے ریکارڈ کیے گئے، تاہم اپریل کے پہلے ہفتے میں ان حملوں کی تعداد نمایاں طور پر کم ہوگئی۔ مغربی ذرائع کا کہنا ہے کہ بعد کے کئی حملے عراق سے کیے گئے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایران نے براہِ راست کارروائیاں محدود کر دی تھیں۔
12 اپریل کو سعودی عرب نے عراقی سفیر کو طلب کر کے عراقی سرزمین سے ہونے والے حملوں پر شدید احتجاج بھی ریکارڈ کرایا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 7 اور 8 اپریل کو سعودی عرب پر مزید 31 ڈرون اور 16 میزائل داغے گئے، جس کے بعد ریاض نے ایران اور عراق کے خلاف مزید سخت ردعمل پر غور شروع کر دیا تھا۔
اسی دوران پاکستان نے بھی سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کے تحت لڑاکا طیارے تعینات کیے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی کوششوں پر زور دیا۔
سابق سعودی انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے حالیہ بیان میں کہا کہ سعودی قیادت نے خطے کو تباہی کی آگ سے بچانے کیلئے انتہائی تحمل اور صبر کا مظاہرہ کیا۔




