New dispute in the Strait of Hormuz Iran accuses the US of attacking passenger ships and killing 5 civilians
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) الجزیرہ نیوز کی خبر کے مطابق آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائی میں پانچ شہری ہلاک ہو گئے، جبکہ نشانہ بننے والی کشتیاں پاسدارانِ انقلاب کی نہیں بلکہ عام مسافروں کی تھیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایک اعلیٰ عسکری کمانڈر نے بتایا کہ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ امریکی افواج نے دو چھوٹی مسافر کشتیوں کو نشانہ بنایا جو عمان کے ساحلی علاقے خاصب سے ایران کی جانب جا رہی تھیں۔ ان کے بقول حملے میں دونوں کشتیاں تباہ ہو گئیں اور پانچ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ نے دعویٰ کیا تھا کہ کارروائی کے دوران چھ ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا جو امریکی مشن میں رکاوٹ ڈال رہی تھیں، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعد میں یہ تعداد سات بتائی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا پروجیکٹ فریڈم کے تحت آبنائے ہرمز میں پھنسے تجارتی جہازوں کو بحفاظت راستہ فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم اس آپریشن نے 8 اپریل کو ہونے والی جنگ بندی کو کمزور کر دیا ہے اور ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔
آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد توانائی سپلائی گزرتی ہے، اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایران نے حالیہ مہینوں میں اس اہم گزرگاہ پر اپنی گرفت مضبوط کی ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھیں گے اور کسی بھی غیر مجاز نقل و حرکت کو روکیں گے، جبکہ امریکی افواج کو بھی سخت ردعمل کی وارننگ دی گئی ہے۔
ادھر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی بحریہ تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے سرگرم ہے، اور حالیہ دنوں میں دو امریکی پرچم بردار جہاز کامیابی سے اس راستے سے گزر چکے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سیاسی بحران کا حل فوجی کارروائی نہیں بلکہ مذاکرات ہیں، جبکہ انہوں نے جاری سفارتی کوششوں میں پیش رفت کا بھی عندیہ دیا۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی مفادات کو نشانہ بنایا گیا تو سخت ردعمل دیا جائے گا۔




