Tensions over the Strait of Hormuz, China warns the world, ceasefire in danger
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق چین نے مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان قائم جنگ بندی انتہائی نازک ہو چکی ہے اور کسی بھی اشتعال انگیز اقدام سے حالات دوبارہ خراب ہو سکتے ہیں۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلیفونک رابطے میں عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ایسے اقدامات کی مخالفت کرے جو کشیدگی میں اضافہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ فوری ترجیح جنگ بندی کو برقرار رکھنا اور خطے کو مزید عدم استحکام سے بچانا ہے۔
وانگ یی نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد خطے میں کشیدگی کم کرنے میں اہم سفارتی کردار ادا کر سکتا ہے، جبکہ چین بھی امن کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
چین نے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اسے عالمی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ چینی مؤقف کے مطابق اس اہم بحری گزرگاہ میں رکاوٹ عالمی توانائی سپلائی اور تجارت کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔
ادھر اقوام متحدہ نے بھی زور دیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی ہر صورت برقرار رکھی جائے۔ ترجمان کے مطابق موجودہ بحران کا کوئی فوجی حل نہیں اور تمام فریقین کو مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔




