US-Iran talks resume, Islamabad becomes global media hub
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز خبر کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان متوقع مذاکرات کے پیش نظر اسلام آباد ان دنوں عالمی میڈیا کا مرکز بن گیا ہے، جہاں بین الاقوامی ٹی وی چینلز، اخبارات اور نیوز ایجنسیوں کے سینئر صحافی بڑی تعداد میں پہنچ چکے ہیں۔
وفاقی دارالحکومت میں غیر ملکی میڈیا نمائندگان کی غیر معمولی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان کو خطے میں ممکنہ ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حکومتی سطح پر صحافیوں کی آمد کو آسان بنانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر ویزے جاری کیے گئے ہیں، جبکہ متعلقہ اداروں کو مکمل تعاون فراہم کرنے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ غیر ملکی صحافیوں کو پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں ہر ممکن سہولت دی جائے، تاکہ وہ موجودہ صورتحال کی مؤثر انداز میں کوریج کر سکیں۔
دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بھی غیر ملکی صحافیوں کی بڑی تعداد دیکھی گئی، جہاں ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ طاہر حسین اندرابی نے موجودہ علاقائی صورتحال پر بریفنگ دی۔ اس موقع پر صحافیوں نے پاکستان کے امریکا اور ایران کے ساتھ روابط اور ممکنہ سفارتی کردار سے متعلق سوالات کیے، تاہم حساس نوعیت کے باعث حکام نے محتاط مؤقف اختیار کیا۔
بریفنگ کے بعد سفارتی حکام اور صحافیوں کے درمیان غیر رسمی تبادلہ خیال بھی ہوا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جہاں عالمی میڈیا کے اکثر علاقائی مراکز نئی دہلی میں قائم ہیں، وہیں اس وقت اسلام آباد ایک عارضی مگر اہم سفارتی اور میڈیا حب کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر ملکی میڈیا نمائندگان کو 30 مارچ سے شروع ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس تک رسائی دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں اسلام آباد میں سفارتی سرگرمیاں مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔




