Riot at US Consulate in Karachi: US Marines allegedly use limited force, ten people killed
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائٹرز کی خبر کے مطابق امریکی قونصل خانے کے باہر مظاہرین کے ہنگامے کے دوران امریکی میرینز نے مبینہ طور پر محدود طاقت کا استعمال کیا اور فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کم از کم دس افراد ہلاک ہوئے۔ یہ قونصل خانے میں فورس کے استعمال کا ایک نایاب واقعہ ہے، جس نے ملک میں امریکی تعلقات اور عوامی ردعمل میں کشیدگی پیدا کر دی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے قونصل خانے کی بیرونی دیوار توڑ دی، جس کے بعد قونصل خانے کے سیکیورٹی اہلکاروں اور میرینز نے فائرنگ کی۔ دو امریکی عہدیداروں کے مطابق یہ واضح نہیں کہ فائرنگ سے کسی کو ہلاکت یا زخم پہنچا یا نہیں، اور دیگر سیکیورٹی اہلکار یا مقامی پولیس کے فائرنگ میں شامل ہونے کی تصدیق بھی نہیں ہوئی۔
صوبائی ترجمان سکھدیو اسارداس ہمنانی نے کہا کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کی لیکن کسی خاص ادارے کی وضاحت نہیں کی۔
ملک بھر میں احتجاج کی وجہ سے بڑے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔ ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج کے دوران کم از کم 26 افراد ہلاک ہوئے۔
کراچی پولیس کے مطابق فائرنگ قونصل خانے کے اندر سے کی گئی۔
امریکی قونصل خانے کی جانب سے سوالات کے جوابات دینے سے گریز کیا گیا ہے رپورٹس کے مطابق اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے اس معاملے پر تبصرے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
شیعہ کمیونٹی کے رہنماؤں نے لاہور اور کراچی میں مزید احتجاج کے لیے کال دی ہے، کراچی میں امریکی قونصل خانے کے راستے بند کر دیے گئے ہیں اور سیکیورٹی کا بھاری انتظام کیا گیا ہے۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاکت کی خبریں سامنے آئیں، جس کے بعد پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں مظاہرے پھوٹ پڑے۔





