اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی اسلام آباد یادداشتِ مفاہمت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے الیکٹرانک دستخط کر دیے ہیں، جبکہ پاکستان نے اس معاہدے میں ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔

وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔ اس کے تحت ابتدائی مرحلے میں ایران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرے گا جبکہ امریکا ایران پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا عمل شروع کرے گا۔

شہباز شریف نے معاہدے کو خطے میں امن اور استحکام کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے امریکی اور ایرانی قیادت سمیت دونوں ممالک کی مذاکراتی ٹیموں کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے کردار کا بھی اعتراف کیا۔

معاہدے کے مطابق دونوں ممالک نے تمام محاذوں، بشمول لبنان، پر جنگی کارروائیاں روکنے اور آئندہ ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دستاویز میں 60 روزہ مذاکراتی مدت بھی شامل ہے جس کے دوران ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں کے خاتمے اور دیگر اہم معاملات پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔

مزید پڑھیے: امریکا اور ایران کے معاہدے کے مسودوں میں وسیع ہم آہنگی، جنگ کے خاتمے کے لیے مشترکہ روڈ میپ سامنے آگیا 

ایرانی حکام کے مطابق مذاکرات صرف جوہری امور اور اقتصادی پابندیوں تک محدود ہوں گے جبکہ ایران کا میزائل پروگرام کسی بھی مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ نہیں ہوگا۔

معاہدے میں ایران کے منجمد اثاثوں تک رسائی، تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات میں سہولت اور مستقبل میں اقتصادی تعاون کے مختلف پہلوؤں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ دونوں فریقوں نے معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ طریقہ کار قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ مستقل امن کے خواہاں ہیں، تاہم اگر معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو امریکا سخت ردعمل کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ادھر سوئٹزرلینڈ میں جمعہ کو امریکا، ایران، پاکستان اور دیگر متعلقہ ممالک کے نمائندوں کے درمیان عملدرآمد کے حوالے سے مزید مذاکرات متوقع ہیں۔