اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے پاکستانی ہم منصب اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ٹیلیفونک رابطے میں کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات کا دوسرا مرحلہ پہلے مرحلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ثابت ہوسکتا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ گفتگو جمعہ کو متوقع امریکا۔ایران مفاہمتی یادداشت پر دستخط سے قبل ہوئی۔ وانگ یی نے کہا کہ موجودہ اتفاق رائے حتمی منزل نہیں بلکہ ایک نئے سفارتی مرحلے کا آغاز ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے تمام فریقوں کو مسلسل اور سنجیدہ کوششیں جاری رکھنا ہوں گی۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھی مذاکراتی عمل کی حمایت میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیے : امریکا نے ایران پر بحری ناکہ بندی ختم کردی، امن معاہدے پر دستخط جمعہ کو متوقع

وانگ یی نے مزید کہا کہ چین خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ پاکستانی حکام پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ چین نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کی حمایت میں اہم کردار ادا کیا۔

دوسری جانب پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار اور وانگ یی نے خطے میں امن اور تمام زیر التوا مسائل کے پرامن حل کے لیے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر بھی زور دیا، جو حالیہ کشیدگی اور بحری ناکہ بندیوں کے باعث عالمی توانائی منڈیوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ آبنائے ہرمز کا کھلا رہنا عالمی معیشت، توانائی کے تحفظ اور بین الاقوامی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے۔