اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر عائد دو ماہ سے جاری بحری ناکہ بندی ختم کر دی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مجوزہ مفاہمتی معاہدے پر جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط متوقع ہیں۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی کے مطابق بحری ناکہ بندی کا خاتمہ تہران کا بنیادی مطالبہ تھا اور معاہدے پر باضابطہ دستخط سے قبل اس پیش رفت کو اعتماد سازی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ دستخط کے بعد دونوں ممالک کے درمیان 60 روزہ مذاکراتی مرحلہ شروع ہوگا، جس میں ایران کے جوہری پروگرام، بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے اور دیگر اہم معاملات پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔
ممکنہ معاہدے کی خبروں کے بعد عالمی تیل منڈیوں میں بھی مثبت ردعمل دیکھا گیا۔ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال ہونے کی توقع پر برینٹ خام تیل 79 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگیا، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 76 ڈالر فی بیرل سے کم سطح پر ٹریڈ کرتا رہا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تیل بردار جہازوں نے دوبارہ معمول کی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی آبنائے ہرمز سے بحری ٹریفک کی بحالی کی تصدیق کی ہے۔
تاہم خطے میں کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ لبنانی حکام کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی ڈرون حملوں میں چار افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے اپنی فورسز کے قریب موجود ایک مشتبہ گاڑی اور راکٹ لانچر کو نشانہ بنایا۔
ایران نے ان حملوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر جنوبی لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں جاری رہیں تو مناسب جواب دیا جائے گا۔ ادھر حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے ایرانی مذاکراتی ٹیم کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات نے خطے میں جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کی ہے۔
