Turkish diplomacy in motion Erdogan offers role in restoring ceasefire, significant progress on Pak-Afghan tensions
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان کے درمیان منگل کو ہونے والے اہم ٹیلیفونک رابطے میں پاک۔افغان کشیدگی، مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال اور دوطرفہ تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ترک ایوانِ صدر کے مطابق صدر اردوان نے پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترکی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا اور پاکستان و افغانستان کے درمیان جنگ بندی کی بحالی میں اپنا کردار ادا کرے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ ایران پر حملوں کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں سفارت کاری کی بحالی نہایت ضروری ہے، اور ترکی اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے گفتگو کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی تازہ صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے ایران پر اسرائیلی حملے اور بعد ازاں خلیجی ممالک پر ہونے والی کارروائیوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے برادر خلیجی قیادت سے رابطہ کر کے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مکالمے کے فروغ کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔
دونوں رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ تمام فریقین کو زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ تنازع مزید نہ پھیلے۔ افغانستان کی حالیہ پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھنے کا عزم دہرایا گیا۔





