Trump threatens to target Iran's Kharg oil hub if US tries to close Strait of Hormuz
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائٹرزکی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش جاری رکھی تو امریکا ایران کے اہم خارگ آئل ہب کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے پر غور کر سکتا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی افواج پہلے ہی خارگ جزیرے پر موجود ایرانی فوجی اہداف کو مکمل طور پر تباہ کر چکی ہیں، تاہم اب تک وہاں موجود تیل کی تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران یا کوئی اور فریق آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ گزرگاہ میں مداخلت کرتا ہے تو امریکا اس فیصلے پر فوری نظرثانی کرے گا۔
خارگ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا سب سے بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے جہاں سے ملک کی تقریباً 90 فیصد تیل برآمدات ہوتی ہیں۔ یہ جزیرہ آبنائے ہرمز سے تقریباً 500 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے اور عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
ایرانی حکام نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کی تیل یا توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو تہران خطے میں ان تمام تنصیبات کو ہدف بنائے گا جو امریکی مفادات یا اتحادی کمپنیوں سے منسلک ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق حالیہ امریکی حملوں کے دوران خارگ جزیرے پر 15 سے زائد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جن میں فضائی دفاعی نظام، بحری اڈے اور ہوائی اڈے کی تنصیبات کو نقصان پہنچا، تاہم تیل کے بنیادی ڈھانچے کو کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔
امریکی بحریہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ جلد ہی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کو فوجی سکیورٹی فراہم کی جائے گی تاکہ عالمی تجارت کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے اس جنگ کے خاتمے کے حوالے سے کوئی حتمی مدت بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنازع “جب تک ضروری ہوگا جاری رہے گا”۔





