Russia's serious accusation Russia seriously accuses Britain and France of providing nuclear technology to Ukraine
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق یوکرین جنگ کے پانچویں سال میں داخل ہوتے ہی کشیدگی نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ روس نے برطانیہ اور فرانس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ یوکرین کو خفیہ طور پر جوہری ہتھیاروں سے متعلق پرزے اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ماسکو نے خبردار کیا ہے کہ اگر جوہری طاقتیں براہِ راست تصادم کی طرف بڑھیں تو اس کے نتائج “انتہائی سنگین” ہوں گے۔
روسی غیر ملکی انٹیلی جنس سروس کی جانب سے سامنے آیا، تاہم اس کے حق میں کوئی دستاویزی ثبوت جاری نہیں کیا گیا۔ ماسکو میں فرانسیسی سفارت خانے نے ان دعوؤں کو کھلا جھوٹ قرار دیا، جبکہ برطانیہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ روسی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ایک بار پھر عالمی برادری کو خبردار کر رہا ہے کہ جوہری طاقتوں کے درمیان براہِ راست فوجی تصادم تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب یوکرین پر روسی حملے کی پانچویں برسی پر یورپی رہنماؤں نے کیف کی حمایت جاری رکھنے کا عزم دہرایا۔ تاہم یورپی یونین کے اندر اختلافات بھی نمایاں رہے، جہاں ہنگری نے روس کے خلاف نئی پابندیوں اور یوکرین کے لیے 90 ارب یورو کے مجوزہ قرضے کو ویٹو کر دیا۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے کیف میں کہا کہ یورپی یونین کسی نہ کسی صورت مالی مدد فراہم کرے گی۔
جی 7 ممالک، جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شامل ہیں، نے مشترکہ اعلامیے میں یوکرین کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور امن کے لیے براہِ راست مذاکرات پر زور دیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ پائیدار امن صرف نیک نیتی پر مبنی بات چیت سے ہی ممکن ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین پر امن عمل میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام عائد کیا، جبکہ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے واضح کیا کہ ان کا ملک اپنی سرزمین سے دستبردار نہیں ہوگا۔ ان کے بقول، ہم اپنی قربانیوں کو ضائع نہیں ہونے دیں گے۔
کیف میں برسی کی تقریبات سادگی سے منعقد ہوئیں جہاں شہریوں نے ہلاک ہونے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔





