Russia-Iran contact on Middle East tensions, agree to maintain ceasefire
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق روس اور ایران کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطے میں مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال، جنگ بندی اور حالیہ کشیدگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں خطے میں امن برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
سرگئی لاوروف اور عباس اراغچی کے درمیان ہونے والی گفتگو میں ایرانی مؤقف سے آگاہ کرتے ہوئے تہران نے امریکا اور اسرائیل پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحری ناکہ بندی اور ایرانی بحری جہاز کی تحویل کو غیر قانونی اقدام قرار دیا۔
روسی وزارت خارجہ کے مطابق ماسکو نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ بندی کو ان ہی شرائط کے مطابق برقرار رکھا جائے جو ابتدائی طور پر طے کی گئی تھیں اور جن کا اعلان پاکستان کی ثالثی میں کیا گیا تھا۔
گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے اور دوبارہ عسکری تصادم سے بچنے کے لیے سفارتی کوششوں کو جاری رکھنا ناگزیر ہے۔ روس نے اس موقع پر ایران اور خلیجی عرب ممالک کے درمیان قابلِ قبول معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں تعاون کی پیشکش بھی دہرائی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے یقین دہانی کرائی کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے روسی جہازوں اور سامان کی بلا رکاوٹ آمد و رفت کو یقینی بنایا جائے گا۔
یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی ختم ہونے کے قریب ہے اور خطے میں ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایران امریکی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم اسلام آباد میں مذاکرات کے ممکنہ دوسرے دور میں شرکت کے حوالے سے تاحال حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔




