Progress in Iran-US relations, Tehran begins considering US proposals
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور سفارتی رابطوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جبکہ تہران نے تصدیق کی ہے کہ اسے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی تازہ تجاویز موصول ہو چکی ہیں اور وہ ان کا جائزہ لے رہا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی سے متعلق مجوزہ دستاویز کے متن پر متعدد بار پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کیا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی نور کے مطابق ایران کے 14 نکاتی ابتدائی مسودے کی بنیاد پر کئی بار فریقین کے درمیان رابطہ ہوا ہے۔ ترجمان کے مطابق ایران نے امریکی مؤقف حاصل کر لیا ہے اور اس کا تفصیلی جائزہ جاری ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی ایران کے دورے پر ہیں، اور اس دوران سفارتی رابطوں میں مزید تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ پاکستان اس عمل میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے تاکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔
دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے سخت مؤقف بھی سامنے آیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے معاہدے پر پیش رفت نہ کی تو اسے “بے مثال فوجی کارروائی” کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی موجودہ قیادت کے پاس دو راستے ہیں: یا امریکا کے لیے قابلِ قبول معاہدہ کرے یا پھر سخت ترین نتائج کے لیے تیار رہے۔
ادھر ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق صورتحال میں امریکا اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، جبکہ اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ پر نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نیوی کے مطابق آبنائے ہرمز کو پہلے ہی بند کرنے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے اور تمام یونٹس کسی بھی ممکنہ ردعمل کے لیے ہائی الرٹ پر ہیں۔
خطے میں کشیدگی فروری میں اس وقت بڑھی جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے، جس کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور خلیجی خطے میں امریکی اتحادیوں کو نشانہ بنایا۔
8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی سے جنگ بندی پر اتفاق ہوا، تاہم اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کسی مستقل معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔ بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کا اعلان کیا جبکہ ایرانی بندرگاہوں کی طرف جانے والے جہازوں پر پابندیاں برقرار رکھی گئیں۔




