Major progress in US-Iran conflict, oil tanker movement restored
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ممکنہ کمی کے آثار سامنے آنے لگے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز سے چینی آئل ٹینکرز کی محفوظ روانگی نے عالمی منڈی میں مثبت اشارے دیے ہیں۔
شپنگ ڈیٹا کے مطابق بدھ کو چین کے دو بڑے تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز عبور کرکے خلیج سے باہر نکل گئے۔ دونوں سپر ٹینکرز تقریباً 40 لاکھ بیرل عراقی خام تیل لے جا رہے تھے، جسے خطے میں بحری سرگرمیوں کی بحالی کی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران جنگ بہت جلد ختم ہوسکتی ہے، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس نے تہران کے ساتھ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا بریفنگ کے دوران جے ڈی وینس نے کہا، ہم اس وقت بہتر پوزیشن میں ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ آیا ایران امریکی شرائط پر آمادہ ہوتا ہے یا نہیں۔
ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے ایران کے خلاف ممکنہ نئی فوجی کارروائی آخری لمحے میں روک دی تھی۔ ان کے مطابق تہران کی جانب سے نئی تجاویز موصول ہوئی ہیں، تاہم اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو دوبارہ کارروائی خارج از امکان نہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ پر اندرونِ ملک شدید دباؤ موجود ہے کہ ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ کیا جائے جس سے آبنائے ہرمز مکمل طور پر بحال ہوسکے، کیونکہ مسلسل کشیدگی کے باعث عالمی تیل سپلائی متاثر ہوئی ہے جبکہ امریکا میں ایندھن کی قیمتیں بھی بلند سطح پر برقرار ہیں۔
دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا نے ممکنہ حملہ اس خدشے کے باعث مؤخر کیا کہ تہران سخت فوجی ردعمل دے سکتا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تہران نے جنگ بندی، امریکی پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی بحالی، بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور جنگی نقصانات کے ازالے سمیت کئی نکات پر نئی تجاویز پیش کی ہیں۔
مثبت اشاروں کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں بھی وقتی کمی دیکھی گئی۔ برینٹ کروڈ کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل تک گرنے کے بعد دوبارہ جزوی بحالی دیکھی گئی۔





