Skip to content

اردو انٹرنیشنل

ڈیجیٹل دنیا میں اردو کی نمائندگی، ایشیا اور جنوبی ایشیا سے آپ تک

Primary Menu
  • صفحۂ اول
  • سیاست
  • پاکستان
  • چین
  • ایشیا
  • کالم کار
  • جنتا کی آواز
  • کاروبار
  • کھیل
  • محاذ
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی

ٹرمپ نے سعودی عرب کو ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری کا عندیہ دے دیا

1 minute read
Trump hints at approval for sale of F-35 jets to Saudi Arabia

ٹرمپ نے سعودی عرب کو ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری کا عندیہ دے دیا

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) جیو نیوز کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان (ایم بی ایس) کے ساتھ ملاقات میں جدید لڑاکا طیاروں پر بات چیت کریں گے، جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ وہ سعودی عرب کو امریکی ساختہ ایف-35 فائٹر جیٹس کی فروخت کی منظوری دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ اعلان ایسے وقت میں آیا ہے جب وہ منگل کو سعودی ولی عہد ایم بی ایس کی میزبانی کرنے والے ہیں۔

ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں کہوں گا کہ ہم یہ کرنے جا رہے ہیں۔ ہم ایف-35 فروخت کریں گے۔

سعودی عرب کی جانب سے 48 ایف-35 طیاروں کی ممکنہ خریداری—جو کئی ارب ڈالر کا سودا ہوسکتا ہے۔ رواں ماہ کے اوائل میں پینٹاگون کے ایک اہم مرحلے سے بھی گزر چکی ہے، جیسا کہ روئٹرز نے رپورٹ کیا۔

یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ کے تزویراتی توازن کو بدل سکتا ہے اور واشنگٹن کی اُس پالیسی کی آزمائش بن سکتا ہے جس کے تحت اسرائیل کی “معیاری فوجی برتری” کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

ٹرمپ کی منظوری اس وقت سامنے آئی ہے جب نیویارک ٹائمز نے اطلاع دی کہ کچھ امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی سعودی عرب گئی تو چین اسے حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

امریکا اب تک ایف-35 کی فروخت صرف قریبی اتحادی ممالک تک محدود رکھتا آیا ہے،جن میں یورپی نیٹو اتحادی اور اسرائیل شامل ہیں۔

واشنگٹن نے 2019 میں ترکی کو ایف-35 پروگرام سے نکال دیا تھا کیونکہ انقرہ کے روسی میزائل دفاعی نظام کی خریداری سے یہ خدشہ پیدا ہوا تھا کہ ماسکو طیارے کی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔

ای آئی اور نیوکلیئر ایجنڈا

محمد بن سلمان 2018 کے بعد پہلی مرتبہ امریکا کا دورہ کر رہے ہیں۔ان کے اس دورے کا مقصد تیل اور سکیورٹی کے شعبوں میں دہائیوں پرانی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانا ہے جبکہ تجارت، ٹیکنالوجی اور ممکنہ طور پر سول نیوکلیئر شعبے میں بھی تعاون بڑھانے پر بات ہوگی۔

ٹرمپ 600 ارب ڈالر کی اُس سعودی سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھانے کے خواہاں ہیں جس کا اعلان انہوں نے مئی میں سعودی عرب کے دورے کے دوران کیا تھا۔ اس موقع پر ٹرمپ نے انسانی حقوق سے مکمل گریز کیا تھا اور توقع ہے کہ اس بار بھی موضوع نہیں چھیڑیں گے۔

سعودی ولی عہد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سکیورٹی یقین دہانیاں چاہتے ہیں اور ساتھ ہی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی اور سول نیوکلیئر پروگرام میں پیش رفت کے متلاشی ہیں۔

دفاعی معاہدے پر توجہ

دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے ایک غیر رسمی سمجھوتہ چلا آ رہا ہے۔ سعودی عرب نسبتاً کم قیمت پر تیل فروخت کرتا ہے اور امریکا اس کی سکیورٹی کا ضامن بنتا ہے۔

لیکن یہ توازن 2019 میں اس وقت بگڑ گیا جب ایران نے سعودی آئل تنصیبات پر حملہ کیا اور واشنگٹن نے کوئی بڑا جواب نہیں دیا۔تشویش اس وقت پھر بڑھی جب ستمبر میں اسرائیل نے دوحہ، قطر میں ایک حملہ کیا جس کا ہدف مبینہ طور پر حماس کے ارکان تھے۔

اس واقعے کے بعد ٹرمپ نے قطر کے ساتھ ایک دفاعی معاہدے پر صدارتی حکم نامے کے ذریعے دستخط کیے۔ کئی مبصرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب کو بھی کوئی ایسا ہی انتظام مل سکتا ہے۔

سعودی عرب نے حالیہ مذاکرات میں امریکی کانگریس سے باقاعدہ منظور شدہ دفاعی معاہدے کا مطالبہ کیا تھا، مگر واشنگٹن نے اسے اسرائیل کے ساتھ سعودی نارملائزیشن سے مشروط کر رکھا ہے۔

ریاض نے بدلے میں یہ شرط رکھی ہے کہ اسرائیل فلسطینی ریاست کے قیام کا وعدہ کرے لیکن اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کو ایک بار پھر فلسطینی ریاست کی مخالفت دہرائی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ممکنہ ایگزیکٹو آرڈر قطر والے دفاعی معاہدے جیسا ہوگا، جو سعودی خواہشات سے کم مگر ایک “ابتدائی قدم” سمجھا جائے گا۔

ڈینس راس جو کئی امریکی حکومتوں میں مشرقِ وسطیٰ مذاکرات کار رہے ہیں کا کہنا ہے کہ اُن کے خیال میں یہ حکم نامہ صرف اس بات کی ہدایت دے گا کہ خطرے کی صورت میں امریکا اور سعودی عرب فوری طور پر مشاورت کریں۔



یہ حکم واشنگٹن کو سعودی دفاع کے لیے عملی جنگ میں کودنے کا پابند نہیں کرے گا۔ان کے مطابق اس میں ممکنہ اقدامات جیسے اسلحہ کی فراہمی، پیٹریاٹ یا تھاد دفاعی نظام کی تعیناتی، یا بحری فوجی یونٹس روانہ کرنے جیسے اقدامات شامل ہوسکتے ہیں۔

علاقائی مقابلے کے تناظر میں معاہدے کی اہمیت

سعودی عرب، یو اے ای اور ایران کے مقابلے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے اور ویژن 2030 کے اہداف کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور نیوکلیئر ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔

اعلیٰ درجے کے کمپیوٹر چِپس تک رسائی سعودی منصوبوں کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب متحدہ عرب امارات نے حال ہی میں ایک اربوں ڈالر کے امریکی ڈیٹا سینٹر معاہدے کے ذریعے یہ ٹیکنالوجی حاصل کر لی ہے۔

ایم بی ایس ایک سول نیوکلیئر پروگرام کے معاہدے کے خواہاں ہیں تاکہ مملکت کی معیشت تیل پر انحصار سے نکل سکے۔ایسا معاہدہ سعودی عرب کو امریکی نیوکلیئر ٹیکنالوجی اور تحفظات تک رسائی دے سکتا ہے، اور اسے یو اے ای کے پروگرام اور حریف ایران کے مقابلے میں زیادہ مضبوط پوزیشن میں لا سکتا ہے۔

لیکن پیش رفت اس لیے سست ہے کہ امریکا تقاضا کرتا ہے کہ سعودی عرب یورینیم کی افزودگی یا ایندھن خرچ کی ری پروسیسنگ نہ کرے جو دونوں ایٹمی ہتھیاروں تک ممکنہ راستے سمجھے جاتے ہیں۔

ڈینس راس کا کہنا ہے کہ وہ نیوکلیئر توانائی پر کسی معاہدے یا کم از کم اس کی پیش رفت کے اعلان کی توقع رکھتے ہیں۔

Post navigation

Previous:  مئی کا تنازعہ صرف ٹریلر تھا،مکمل طور پر تیار ہیں:بھارتی آرمی چیف کا پاکستان کو نیا انتباہ
Next: ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی ماسکو میں ایس سی او اجلاس میں شرکت

430 Gaza flotilla workers transferred to Israel, condemned by several countries
  • Top News
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

غزہ فلوٹیلا کے 430 کارکن اسرائیل منتقل، متعدد ممالک کی مذمت

Major progress in US-Iran conflict, oil tanker movement restored
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • چین
  • مشرق وسطیٰ

امریکا ایران تنازع میں بڑی پیش رفت، تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت بحال

Putin-Xi Jinping meeting in Beijing, discussions expected on energy, trade and global security
  • Top News
  • بین الاقوامی
  • چین

بیجنگ میں پیوٹن-شی جن پنگ ملاقات، توانائی، تجارت اور عالمی سلامتی پر گفتگو متوقع

یہ بھی پڑہیے

A few days left in the Football World Cup, the Iranian team has not yet been able to get visas-IFF
  • کھیل

فٹ بال ورلڈ کپ میں چند دن باقی، ایرانی ٹیم کو تاحال ویزے نہ مل سکے

Former Pakistani fast bowler Mohammad Amir becomes a British citizen-X
  • کھیل

سابق پاکستانی فاسٹ بولر محمد عامر برطانوی شہری بن گئے

Historic defeat at the hands of Bangladesh, Shan Masood likely to resign, sources say-PCB
  • کھیل

بنگلا دیش کے ہاتھوں تاریخی شکست، شان مسعودکا مستعفی ہونے کا فیصلہ

430 Gaza flotilla workers transferred to Israel, condemned by several countries
  • Top News
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

غزہ فلوٹیلا کے 430 کارکن اسرائیل منتقل، متعدد ممالک کی مذمت

Calendar

May 2026
MTWTFSS
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
25262728293031
« Apr    

Top News

430 Gaza flotilla workers transferred to Israel, condemned by several countries
  • Top News
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

غزہ فلوٹیلا کے 430 کارکن اسرائیل منتقل، متعدد ممالک کی مذمت

Major progress in US-Iran conflict, oil tanker movement restored
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • چین
  • مشرق وسطیٰ

امریکا ایران تنازع میں بڑی پیش رفت، تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت بحال

Putin-Xi Jinping meeting in Beijing, discussions expected on energy, trade and global security
  • Top News
  • بین الاقوامی
  • چین

بیجنگ میں پیوٹن-شی جن پنگ ملاقات، توانائی، تجارت اور عالمی سلامتی پر گفتگو متوقع

Shooting at California Islamic Center, 3 worshippers including security guard killed
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی

کیلیفورنیا کی اسلامی سینٹر میں فائرنگ، سیکیورٹی گارڈ سمیت 3 نمازی جاں بحق

Tensions with Iran persist, Trump temporarily postpones military action
  • Top News
  • امریکہ
  • بین الاقوامی
  • پاکستان
  • مشرق وسطیٰ

ایران سے کشیدگی برقرار، ٹرمپ نے فوجی کارروائی وقتی طور پر مؤخر کردی

Social Streams

  • Facebook
  • Instagram
  • Twitter
  • Youtube

Categories

Afghanistan Editor's Pick South Asia Ticker Top News آج کے کالمز الیکشن 2024 امریکہ انٹرنیمنٹ انڈیا بلاگ بین الاقوامی دلچسپ و عجیب سائنس اور ٹیکنالوجی مشرق وسطیٰ ّExclusive پاکستان چین کاروبار کھیل
Copyright © All rights reserved. | MoreNews by AF themes.