Decisive stage in Islamabad Second round of US-Iran talks nears, Iranian participation still uncertain
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق اسلام آباد ایک بار پھر عالمی سفارتکاری کے مرکز میں آ گیا ہے، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں جاری ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد کی آمد متوقع ہے، تاہم ایران کی جانب سے تاحال باضابطہ شرکت کی تصدیق نہیں کی گئی، جس سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
امریکی وفد میں مشرقِ وسطیٰ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور سینئر مشیر جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔ اس سے قبل ہونے والے 21 گھنٹے طویل مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوئے تھے، تاہم پسِ پردہ سفارتی کوششوں نے ایک بار پھر بات چیت کی راہ ہموار کی ہے۔
ایرانی سرکاری ذرائع نے مذاکرات میں شرکت کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے امریکا پر سخت مؤقف اپنایا ہے۔ تہران کے مطابق پابندیاں، بحری ناکہ بندی اور سخت بیانات کسی بھی بامعنی پیش رفت میں بڑی رکاوٹ ہیں، اگرچہ سفارتی حلقے اب بھی ممکنہ شرکت کو خارج از امکان قرار نہیں دیتے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایک منصفانہ معاہدہ پیش کر رہا ہے، جسے قبول نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ ان بیانات کے ساتھ خلیج میں کشیدگی بھی برقرار ہے، جہاں حالیہ بحری واقعات نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
پاکستان اس سارے عمل میں ایک اہم ثالث کے طور پر سرگرم ہے اور دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق سخت عوامی بیانات کے باوجود مذاکراتی عمل مکمل طور پر رکا نہیں اور پیش رفت کی امید موجود ہے۔
ممکنہ مذاکرات کے پیش نظر اسلام آباد اور راولپنڈی میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ ہزاروں اضافی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، ریڈ زون کو سیل کر دیا گیا ہے اور اہم مقامات پر سخت نگرانی جاری ہے۔





