After the Iran war, the crisis of trust between the United States and its allies began to deepen.
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ فیصلوں نے امریکا اور اس کے روایتی اتحادیوں کے تعلقات میں نئی دراڑیں ڈال دی ہیں، جبکہ یورپ، خلیجی ممالک اور ایشیائی شراکت دار واشنگٹن کی پالیسیوں پر بڑھتی بے یقینی کا اظہار کر رہے ہیں۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے جرمنی سے امریکی فوجیوں کی جزوی واپسی، یورپ میں مزید فوجی کمی کے اشارے اور خلیجی اتحادیوں پر حملوں کو کم اہمیت دینے جیسے اقدامات نے امریکا کے عالمی اتحادیوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے جرمنی میں تعینات 36 ہزار 400 امریکی فوجیوں میں سے 5 ہزار اہلکار واپس بلانے کا اعلان کیا، جبکہ اٹلی اور اسپین میں بھی امریکی فوجی موجودگی کم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے جب بعض یورپی ممالک نے ایران جنگ کے دوران امریکا کو مکمل فوجی سہولتیں فراہم کرنے سے گریز کیا۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ صدر ٹرمپ اتحادی ممالک سے برابر کی شراکت داری چاہتے ہیں اور امریکا کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق نیٹو ممالک میں اس وقت شدید بے چینی پائی جا رہی ہے، کیونکہ ٹرمپ ماضی میں بھی اتحاد کے دفاعی معاہدوں پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔ یورپی رہنما اب دفاعی خودمختاری بڑھانے اور امریکا پر انحصار کم کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کر رہے ہیں۔
ادھر خلیجی ممالک میں بھی امریکا کے رویے پر تحفظات بڑھ رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات پر حالیہ ایرانی حملوں کے باوجود ٹرمپ نے صورتحال کو “معمولی” قرار دیا، جس سے خطے کے اتحادی ممالک میں اضطراب پیدا ہوا۔
ایشیا میں جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک بھی امریکی پالیسیوں کو تشویش سے دیکھ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان ممالک کو خدشہ ہے کہ اگر مستقبل میں چین کے ساتھ کوئی بڑا تنازع کھڑا ہوا تو واشنگٹن شاید پہلے جیسا واضح اور مضبوط کردار ادا نہ کرے۔
جاپان کے سابق وزیر خارجہ تاکیشی ایوایا نے کہا کہ امریکا پر اعتماد میں کمی پورے خطے کے سکیورٹی توازن پر اثر ڈال سکتی ہے۔




