Iran warns Trump administration, American people will now pay the economic price
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے معاشی اثرات اب امریکی معیشت پر واضح ہونا شروع ہو گئے ہیں، جبکہ اس کا اصل بوجھ امریکی عوام کو اٹھانا پڑے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا میں صرف پیٹرول کی قیمتیں ہی نہیں بڑھ رہیں بلکہ قرضوں، مارگیج ریٹس اور مالی دباؤ میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آٹو لون کی عدم ادائیگی کی شرح گزشتہ 30 برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق امریکا کو اب یہ سمجھنا ہوگا کہ جنگ کی قیمت صرف میدان جنگ میں نہیں بلکہ معیشت میں بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال روکی جا سکتی تھی، تاہم واشنگٹن نے تصادم کا راستہ اختیار کیا۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اب بھی سفارتکاری اور پرامن حل کے لیے پرعزم ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق انہوں نے پوپ لیو چہاردہم کو بھیجے گئے پیغام میں حالیہ تنازع پر ویٹی کن کے مؤقف کو سراہا۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف اقدامات حقِ دفاع کے تحت کیے، جبکہ عالمی برادری کو امریکا کی غیر قانونی کارروائیوں پر ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔




