UAE's categorical response to Iran No external power needed for self-defense
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے واضح کیا ہے کہ اسے اپنی سلامتی کے لیے کسی بیرونی طاقت کے تحفظ کی ضرورت نہیں اور وہ اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
برکس وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں گفتگو کرتے ہوئے یو اے ای کے وزیر مملکت خلیفہ شاہین المرر نے ایران کی جانب سے عائد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے ممالک پر حملوں کو کسی صورت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اماراتی خبر رساں ادارے وام کے مطابق خلیفہ شاہین المرر نے کہا کہ یو اے ای اپنی خودمختاری، آزاد خارجہ پالیسی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام قانونی، سفارتی اور دفاعی اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 28 فروری سے اب تک یو اے ای نے تقریباً 3 ہزار بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنائے، جن کا ہدف ہوائی اڈے، بندرگاہیں اور توانائی تنصیبات سمیت اہم شہری انفراسٹرکچر تھا۔
اماراتی وزیر مملکت نے آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں اور سمندری راستوں کی بندش پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی تجارتی گزرگاہوں کو دباؤ کے لیے استعمال کرنا “بحری قزاقی” کے مترادف ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یو اے ای پر اسرائیل کے ساتھ اتحاد اور ایران مخالف کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔




