Russian ship sinks after mysterious explosions near Spain, suspected of carrying nuclear materials to North Korea
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) سی این این کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اسپین کے ساحل کے قریب بحیرہ روم میں روسی کارگو جہاز ارسا میجر کے پراسرار انداز میں ڈوبنے کے واقعے نے عالمی سطح پر نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جہاز ممکنہ طور پر آبدوزوں میں استعمال ہونے والے دو نیوکلیئر ری ایکٹرز شمالی کوریا منتقل کر رہا تھا، جبکہ حادثے سے جڑی نئی تفصیلات نے اس واقعے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق روسی جہاز 23 دسمبر 2024 کو اسپین کے ساحل سے تقریباً 60 میل دور متعدد دھماکوں کے بعد سمندر میں ڈوب گیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ جہاز بظاہر روس کے مشرقی شہر ولادی ووستوک جا رہا تھا، تاہم تحقیقات میں شبہ ظاہر کیا گیکہ اس کی اصل منزل شمالی کوریا کی بندرگاہ راسن ہوسکتی تھی۔
رپورٹ کے مطابق جہاز 11 دسمبر کو روسی بندرگاہ اُست لوگا سے روانہ ہوا تھا۔ سرکاری دستاویزات میں اس کے کارگو کو دو بڑے مین ہول کورز، 129 خالی کنٹینرز اور دو بڑی کرینوں کے طور پر ظاہر کیا گیا، تاہم بعد میں ہسپانوی حکام نے انکشاف کیا کہ روسی کپتان نے دورانِ تفتیش بتایا کہ یہ دراصل آبدوزوں میں استعمال ہونے والے نیوکلیئر ری ایکٹرز کے حصے تھے۔
تحقیقات کے مطابق جہاز 22 دسمبر کو اچانک اپنی رفتار کم کر کے غیر معمولی انداز میں رکنے لگا، اگلے روز جہاز کے انجن روم کے قریب یکے بعد دیگرے تین دھماکے ہوئے جن میں دو روسی اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ جہاز شدید متاثر ہونے کے بعد سمندر برد ہوگیا۔
ہسپانوی ریسکیو حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی جنگی جہاز ایوان گرین موقع پر پہنچنے کے بعد قریبی جہازوں کو دور رہنے کی ہدایت دیتا رہا۔ ذرائع کے مطابق اس دوران مزید چار دھماکوں کی آوازیں بھی ریکارڈ کی گئیں، جس نے واقعے کو مزید پراسرار بنا دیا۔
تحقیقات میں یہ بھی بتایا گیا کہ جہاز کے ہُل میں تقریباً 50 سینٹی میٹر چوڑا سوراخ پایا گیا۔ بعض دفاعی ماہرین نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ جہاز کو کسی جدید ٹارپیڈو یا بارودی ڈیوائس کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب روسی کمپنی نے واقعے کو دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ جہاز کے ڈیک پر دھاتی ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے جبکہ ہُل اندر کی جانب دبا ہوا تھا، جو کسی بیرونی حملے کے امکان کو تقویت دیتا ہے۔




