Joint message from political and military leadership Pakistan is ready to respond to every threat
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے مارکۂ حق کی پہلی سالگرہ قومی جذبے اور بھرپور یکجہتی کے ساتھ مناتے ہوئے دشمن کو واضح پیغام دیا ہے کہ ملکی خودمختاری، سلامتی اور وقار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، جبکہ مستقبل میں کسی بھی جارحیت کا جواب پہلے سے زیادہ سخت اور مؤثر انداز میں دیا جائے گا۔
جی ایچ کیو میں منقعد ہونے والی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ مارکۂ حق صرف ایک جنگ نہیں بلکہ حق اور باطل کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ تھا، جس میں پاکستان نے اللہ کے فضل سے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی نئی مہم جوئی کے نتائج انتہائی خطرناک، دور رس اور تکلیف دہ ہوں گے۔
آرمی چیف نے کہا کہ بھارت خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم پاکستان ہر قیمت پر اپنی خودمختاری اور دفاع کا تحفظ کرے گا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اب براہِ راست جنگ کے بجائے پراکسی وار کا سہارا لے رہا ہے، تاہم پاکستان دہشت گردی کے خاتمے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔
دوسری جانب اسلام آباد میں پاکستان مونومنٹ پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ ہر سال 10 مئی کو یومِ مارکۂ حق کے طور پر منایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے بھارتی جارحیت کا ایسا تاریخی جواب دیا جسے دشمن طویل عرصے تک یاد رکھے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے پہلگام واقعے کو جواز بنا کر پاکستان پر الزامات عائد کیے، مگر پاکستان نے ذمہ داری اور تحمل کا مظاہرہ کیا۔ بعدازاں بھارتی حملوں کے جواب میں آپریشن بنیان المرصوص کے تحت دشمن کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد
صدر آصف علی زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کے عوام اور مسلح افواج ہر خطرے سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کی کوشش کو آبی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پانی پاکستان کے کروڑوں شہریوں کی زندگی کا مسئلہ ہے۔
تقریبات میں اعلیٰ حکومتی شخصیات، سفارتکاروں، طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی، جبکہ شہدا کے لیے خصوصی فاتحہ خوانی اور قومی سلامتی کے لیے دعائیں بھی کی گئیں۔




