New stalemate in US-Iran talks, Trump calls Iran's response unacceptable
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے امریکا کی مجوزہ امن تجاویز پر دیے گئے جواب کو مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دے دیا، جس کے بعد خطے میں جاری سفارتی کوششوں پر نئے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے ایران کے نمائندوں کی جانب سے موصول ہونے والا جواب پڑھ لیا ہے، تاہم وہ اسے قبول کرنے کیلئے تیار نہیں۔
انہوں نے لکھا، میں نے ایران کے نمائندوں کا جواب پڑھا ہے، اور یہ مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔
اس سے قبل ایران نے امریکا کی تجاویز پر اپنا باضابطہ جواب پاکستان کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچایا تھا۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق تہران کی موجودہ سفارتی کوششوں کا مقصد جنگ بندی کو برقرار رکھنا اور خطے میں مزید کشیدگی کو روکنا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے ایرانی مؤقف متعلقہ عالمی اور علاقائی فریقوں تک پہنچا دیا ہے، جبکہ پسِ پردہ رابطوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کسی دباؤ میں آ کر پسپائی اختیار نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا، اگر مذاکرات کی بات ہو رہی ہے تو اس کا مطلب ہرگز ہتھیار ڈالنا نہیں، ایران دشمن کے سامنے نہیں جھکے گا۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ تنازع اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک ایران کا افزودہ یورینیم اور جوہری تنصیبات مکمل طور پر ختم نہیں کر دی جاتیں۔
اسی دوران قطر اور پاکستان کے درمیان بھی سفارتی رابطے تیز ہوگئے ہیں۔ قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں خطے کی صورتحال اور جاری امن کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور مذاکرات کے فروغ کیلئے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔




