Preparing for a decisive strike on Iran Trump briefed on secret military plans, tensions in the region intensify
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ نے صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف ممکنہ فیصلہ کن حملے کے آپشنز پر تفصیلی بریفنگ دی ہے، جس کے بعد خطے میں ایک نئے فوجی مرحلے کے خدشات شدت اختیار کر گئے ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بریفنگ کے دوران ایک مختصر مگر انتہائی طاقتور فوجی کارروائی کا خاکہ پیش کیا گیا، جس کے تحت ایران کے باقی ماندہ فوجی اثاثوں، اعلیٰ قیادت اور اہم اسٹریٹجک انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی تجاویز شامل ہیں۔ یہ منصوبہ اس صورت میں فعال کیا جا سکتا ہے اگر جنگ بندی ٹوٹتی ہے یا سفارتی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق پینٹاگون جدید ترین ہتھیاروں کے استعمال پر بھی غور کر رہا ہے، جن میں ڈارک ایگل ہائپرسونک میزائل سسٹم شامل ہے، جو تقریباً 2,000 میل تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بی-1بی لینسر بمبار طیاروں کی خطے میں بڑھتی ہوئی موجودگی بھی اس بات کا اشارہ دے رہی ہے کہ امریکہ کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے اپنی عسکری تیاری کو مضبوط بنا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان بظاہر جنگ بندی برقرار ہے، تاہم عملی طور پر کشیدگی میں کمی نہیں آئی۔ آبنائے ہرمز کی بندش بدستور عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ بنی ہوئی ہے، کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل و گیس سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے، اور اس میں خلل نے توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
دوسری جانب ایران نے سخت ردعمل کا عندیہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے دوبارہ حملہ کیا تو اس کا جواب طویل اور شدید ہوگا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ امریکی بحری ناکہ بندی کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ادھر سفارتی سطح پر بھی پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات بدستور برقرار ہیں اور کوئی واضح بریک تھرو سامنے نہیں آ سکا، جس کے باعث خطے میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی جا رہی ہے۔




