Iran-US tensions Negotiations stalled, Iranian Foreign Minister arrives in Russia, important meeting with Putin expected
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے بیچ امن مذاکرات تاحال تعطل کا شکار ہیں، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اہم سفارتی مشاورت کیلئے روس پہنچ گئے ہیں جہاں ان کی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات متوقع ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں ثالثی کی کوششیں جاری ہیں، تاہم پاکستان میں متوقع مذاکراتی دور منسوخ ہونے کے بعد صورتحال مزید غیر یقینی ہو گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے نمائندوں کا اسلام آباد کا دورہ آخری وقت پر روک دیا، جس سے مذاکراتی عمل متاثر ہوا۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تہران نے آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق ایک نئی تجویز دی ہے، تاہم اس پر باضابطہ پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
مزید پڑھیئے : ایران کی نئی پیشکش: ہرمز کھولنے کے بدلے جنگ بندی، ایٹمی مذاکرات مؤخر کرنے کی تجویز
دوسری جانب جنگ بندی برقرار ہونے کے باوجود آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی منڈیوں کو متاثر کیا ہے۔ تیل اور گیس کی ترسیل میں رکاوٹ کے باعث قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ترقی پذیر ممالک کو خوراک اور توانائی کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں۔ امریکا نے بھی ایرانی بندرگاہوں پر اپنی پابندیاں برقرار رکھی ہوئی ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران اگر مذاکرات چاہتا ہے تو اسے خود پیش قدمی کرنا ہوگی، جبکہ بڑھتی ہوئی ایندھن قیمتوں کے باعث انہیں اندرونی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔
ادھر لبنان میں بھی جنگ بندی کمزور دکھائی دے رہی ہے، جہاں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حالیہ حملوں میں جانی نقصان کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے خطے کی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔




