Debt burden and inflation risk increase concerns ahead of budget
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ڈان نیوز کی خبر کے مطابق آئندہ وفاقی بجٹ ایسے وقت میں تیار کیا جا رہا ہے جب پاکستان کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے اور مالیاتی گنجائش محدود ہوتی جا رہی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق جولائی 2025 سے فروری 2026 تک وفاقی قرض میں 1.99 کھرب روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد مجموعی قرض 79.9 کھرب روپے تک پہنچ گیا، جبکہ بیرونی قرض 23.2 کھرب روپے کے مساوی ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اندازوں کے مطابق رواں مالی سال میں مجموعی حکومتی قرضہ جی ڈی پی کے 70.1 فیصد تک جا پہنچا ہے۔ سب سے بڑا دباؤ قرضوں کی ادائیگی کا ہے، جس پر حکومتی آمدن کا تقریباً نصف خرچ ہو رہا ہے۔ مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں سود کی ادائیگیاں 3.56 کھرب روپے رہیں، جو دفاع اور ترقیاتی اخراجات کے مجموعے سے بھی زیادہ ہیں۔
آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر پروگرام کے تحت پاکستان کو سخت مالیاتی اصلاحات کرنا ہوں گی، جس کے باعث بجٹ سازی مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق نئے ٹیکسز یا سبسڈیز میں کمی ناگزیر ہو سکتی ہے، تاہم یہ اقدامات سیاسی طور پر چیلنجنگ ہوں گے۔
مالی خسارے کو 3.2 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف رکھا گیا ہے، لیکن درمیانی مدت میں اس کے دوبارہ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح بنیادی سرپلس میں بھی کمی کی پیشگوئی کی گئی ہے، جو مالی استحکام کیلئے خطرہ بن سکتی ہے۔
توانائی کے شعبے میں گردشی قرض اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جہاں بجلی کا قرض تقریباً 1.9 کھرب اور گیس کا 3.4 کھرب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ اسی طرح ایف بی آر کیلئے 15.6 کھرب روپے کا ٹیکس ہدف بھی ایک مشکل ہدف سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ موجودہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح تقریباً 10.6 فیصد ہے۔




