Consequences of unsafe treatment Increase in HIV cases among children in the city
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ڈان نیوز کی خبر کے مطابق شہر کے بڑے اسپتالوں میں بچوں میں ایچ آئی وی کے کیسز میں غیر معمولی اضافہ سامنے آیا ہے، جس نے صحت کے نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ رواں سال کے ابتدائی مہینوں میں ہی درجنوں نئے کیسز رپورٹ ہونے سے ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق تین بڑے طبی مراکز میں مجموعی طور پر 159 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہو چکی ہے۔ سندھ انفیکشس ڈیزیزز ہسپتال میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کیسز میں واضح اضافہ دیکھا گیا، جبکہ انڈس ہسپتال میں بھی مریضوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق زیادہ تر بچوں میں وائرس کی منتقلی کی وجہ موروثی نہیں بلکہ غیر محفوظ طبی طریقہ کار ہے۔ ڈاکٹر سمرین سرفراز کے مطابق تقریباً 72 فیصد کیسز ایسے ہیں جن میں انفیکشن کا تعلق سرنجز کے دوبارہ استعمال، غیر جراثیم شدہ آلات اور بغیر اسکریننگ کے خون کی منتقلی سے جڑا ہوا ہے، جبکہ صرف 8 فیصد کیسز میں مائیں ایچ آئی وی پازیٹو تھیں۔
ایک بڑے بچوں کے اسپتال میں بھی 60 سے زائد کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں اکثریت اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے بچوں کی ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ان بچوں کو متعدد بار انجیکشن لگائے گئے تھے، جو ممکنہ طور پر وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بنے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ بیشتر بچے بیماری کے آخری مراحل میں سامنے آ رہے ہیں، جبکہ ملک میں ماہر ڈاکٹروں کی کمی اور ادویات کی محدود دستیابی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
دوسری جانب حکام کا مؤقف ہے کہ کیسز میں اضافہ بہتر تشخیصی نظام کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے، تاہم طبی ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ غیر محفوظ طبی پریکٹسز کے خلاف فوری کارروائی ناگزیر ہے۔





