Global pressure against Israel increases, calls for strict measures from the European Union
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق دنیا بھر کی 60 سے زائد انسانی حقوق کی تنظیموں اور ٹریڈ یونینز نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنا اہم ایسوسی ایشن معاہدہ فوری طور پر معطل کرے، غیر قانونی بستیوں سے تجارت پر پابندی عائد کرے اور اسلحے کی فراہمی مکمل طور پر روک دے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت متعدد تنظیموں کی جانب سے جاری مشترکہ خط میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اسرائیل انسانی حقوق اور جمہوری اصولوں کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے، جو یورپی یونین کے ساتھ معاہدے کی بنیادی شقوں کے منافی ہے۔ خط میں کہا گیا کہ فلسطین اور لبنان میں جاری کارروائیوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر انسانی نقصان اور عدم استحکام پیدا ہوا۔
خط میں زور دیا گیا کہ یورپی یونین پہلے ہی اس بات کا تعین کر چکی ہے کہ اسرائیل معاہدے کی شق 2 کی خلاف ورزی کر رہا ہے، اس کے باوجود عملی اقدامات نہ کرنا بلاک کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ تنظیموں نے مطالبہ کیا کہ غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر مکمل پابندی لگائی جائے اور اسلحے، ٹیکنالوجی اور دیگر عسکری سامان کی فراہمی بھی فوری طور پر روکی جائے۔
مزید برآں، خط میں مغربی کنارے اور غزہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال، جبری بے دخلی، گرفتاریوں اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ تنظیموں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو خطے میں بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
ادھر یورپی ممالک کے سابق وزراء اور سفارتکاروں سمیت 350 سے زائد شخصیات نے بھی علیحدہ بیان میں یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف مؤثر اقدامات کرے، بصورت دیگر عالمی سطح پر دوہرے معیار کا تاثر مزید مضبوط ہوگا۔
تنظیموں نے اپنے خط کے اختتام پر واضح کیا کہ فلسطین اور لبنان کے عوام کو محض بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات اور انصاف درکار ہے، اور اب مزید تاخیر کی گنجائش نہیں رہی۔



