Russia warns Europe Intervention in Ukraine war could have serious consequences
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ڈان نیوز کی خبر کے مطابق روس نے خبردار کیا ہے کہ یورپی ممالک یوکرین جنگ میں بتدریج براہِ راست فریق بنتے جا رہے ہیں، جبکہ ماسکو نے براعظم یورپ اور برطانیہ میں ڈرون بنانے والی تنصیبات سے متعلق تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ روسی وزارتِ دفاع کی حالیہ رپورٹ میں ان ممالک کے کردار کی تفصیلات واضح کی گئی ہیں جو یوکرین کو ڈرونز اور عسکری معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ وزارتِ دفاع نے برطانیہ، جرمنی، پولینڈ، نیدرلینڈز سمیت متعدد یورپی ممالک میں قائم ان فیکٹریوں کی نشاندہی بھی کی ہے جہاں ڈرون یا ان کے پرزے تیار کیے جاتے ہیں۔
سابق روسی صدر دمتری میدویدیف نے سوشل میڈیا پر ایک سخت بیان میں اشارہ دیا کہ یہ تنصیبات ممکنہ اہداف بن سکتی ہیں، تاہم حکومتی سطح پر اس حوالے سے کوئی واضح تصدیق نہیں کی گئی۔
دوسری جانب روس نے یوکرینی حملوں کے بعد اپنے اہم توانائی انفراسٹرکچر کے دفاع کو مزید مضبوط بنانے کا اعلان کیا ہے۔ خاص طور پر مغربی روس کی بندرگاہوں — اُست-لوگا اور پرایم ورسک حالیہ ڈرون حملوں کے بعد فضائی دفاعی نظام کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔
لینن گراڈ کے گورنر الیگزینڈر دروزڈینکو کے مطابق حساس تنصیبات کے تحفظ کے لیے اضافی موبائل دفاعی یونٹس تعینات کیے جا رہے ہیں، جن میں رضاکار ریزرو اہلکار بھی شامل ہوں گے۔
یوکرین کا مؤقف ہے کہ یہ حملے روس کی جانب سے جاری فضائی کارروائیوں کا جواب ہیں، جبکہ ماہرین کے مطابق توانائی تنصیبات پر حملوں نے روس کی تیل برآمدات کو متاثر کیا ہے، حالانکہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کے باعث مارچ میں روس کی تیل آمدن تقریباً 19 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔





