Iran-Israel war intensifies, US eyes Kharg Island, negotiations also ongoing
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ایکسپریس ٹریبیون خبر کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں مزید شدت آ گئی ہے، جہاں ایک جانب میزائل حملوں اور فضائی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری جانب امریکا نے ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے پر ممکنہ کنٹرول کی بات کر کے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کے بعد دفاعی نظام فوری طور پر متحرک کیا گیا اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی۔ ادھر امریکی صدر نے کہا ہے کہ خارگ جزیرہ، جہاں سے ایران کی تقریباً 90 فیصد تیل برآمدات ہوتی ہیں، کو نشانہ بنانا امریکا کے لیے مشکل نہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اس جزیرے پر کنٹرول ایران کی معیشت پر بڑا دباؤ ڈال سکتا ہے، تاہم اس سے جنگ مزید پھیلنے کا خدشہ بھی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع پہلے ہی ہزاروں فوجی خطے میں تعینات کر چکا ہے، جبکہ سینکڑوں خصوصی دستے بھی پہنچ چکے ہیں، جس سے ممکنہ زمینی کارروائی کے امکانات زیر بحث ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں یہ بھی کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست اور بالواسطہ رابطے جاری ہیں اور نئی ایرانی قیادت کو انہوں نے معقول قرار دیا، تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا یقینی نہیں۔
ایران نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر علیباف نے خبردار کیا کہ اگر امریکی افواج نے زمینی کارروائی کی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ادھر پاکستان نے ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق جلد بامعنی بات چیت کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اسرائیل نے حالیہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کے مختلف علاقوں پر 140 سے زائد فضائی حملے کیے، جبکہ ایران کی جانب سے بھی جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔ اس دوران یمن سے حوثی گروپ کی شمولیت نے تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔



