Questions on Iran war in the US, Congress demands immediate public hearing
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز خبر کے مطابق ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے ایران کے خلاف جاری جنگ پر فوری عوامی سماعت کا مطالبہ کرتے ہوئے پینٹاگون سے تفصیلی وضاحت طلب کر لی ہے۔ قانون سازوں کا کہنا ہے کہ جنگ کی حکمتِ عملی، اخراجات اور شفافیت سے متعلق اہم سوالات کے جوابات اب تک واضح نہیں کیے گئے۔
یہ مطالبہ کمیٹی کے سینئر رکن ایڈم سمتھ کی قیادت میں سامنے آیا، جس پر تمام ڈیموکریٹ ارکان نے دستخط کیے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ایران جنگ جیسے حساس معاملے پر معمول کی سماعتیں کافی نہیں، اس لیے ایک علیحدہ اور جامع اجلاس بلایا جائے جس میں دفاعی حکام اپنے منصوبوں اور اہداف سے آگاہ کریں۔
ارکان کانگریس کے مطابق اس جنگ میں اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک اور 290 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ ایک ہزار سے زائد شہری اموات کی اطلاعات بھی ہیں۔ انہوں نے ممکنہ زمینی آپریشن، بدلتی حکمتِ عملی اور تقریباً 200 ارب ڈالر کے اضافی بجٹ جیسے معاملات پر بھی تشویش ظاہر کی۔
قانون سازوں نے ٹرمپ انتظامیہ پر شفافیت کی کمی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ نہ تو کانگریس کو مکمل اعتماد میں لیا جا رہا ہے اور نہ ہی عوام کو حقائق سے آگاہ کیا جا رہا ہے، جو ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔
دوسری جانب اس تنازع میں پاکستان کا کردار بھی نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے، جو امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں ثالثی کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیشرفت پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
امریکی تجزیہ کار لیزا کرٹس نے کہا کہ اگر پاکستان اس ثالثی میں کامیاب ہوتا ہے تو اس سے نہ صرف خطے میں اس کا کردار مضبوط ہوگا بلکہ امریکہ کے ساتھ تعلقات بھی بہتر ہو سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ کی جانب سے پیش کیے گئے 15 نکاتی منصوبے پر ایران کا ردعمل متوقع ہے، تاہم ابتدائی اشارے بتاتے ہیں کہ دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔
دفاعی محاذ پر بھی امریکہ کو دباؤ کا سامنا ہے، جہاں اب تک 850 سے زائد ٹوماہاک میزائل استعمال کیے جا چکے ہیں، جو معمول کی سالانہ استعداد سے کہیں زیادہ ہیں، جس سے ذخائر پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔





