Attack on Iran postponed, Trump gives 10 days for talks
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر نے ایران کے خلاف توانائی تنصیبات پر ممکنہ حملوں کو عارضی طور پر مؤخر کرتے ہوئے 10 دن کا وقفہ دینے کا اعلان کیا ہے، جسے جاری کشیدگی کے درمیان ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور ان کے بقول یہ بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے، اگرچہ بعض اطلاعات اس کے برعکس تاثر دے رہی ہیں۔ انہوں نے ایک کابینہ اجلاس کے دوران کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ آیا امریکہ اس کیلئے آمادہ ہوگا یا نہیں۔
انہوں نے ایران کو ماہر مذاکرات کار قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تہران پس پردہ ڈیل کیلئے کوشش کر رہا ہے، لیکن داخلی اور سیاسی وجوہات کی بنا پر اس کا کھل کر اظہار نہیں کر رہا۔ دوسری جانب ایرانی حکام مسلسل امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے یکطرفہ اور غیر منصفانہ قرار دے رہے ہیں، تاہم سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے۔
امریکی صدر نے مزید انکشاف کیا کہ ایران نے بظاہر خیرسگالی کے طور پر آبنائے ہرمز سے 10 آئل ٹینکرز کو گزرنے کی اجازت دی، جسے انہوں نے مذاکرات میں پیش رفت کا اشارہ قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ ایران کسی نہ کسی سطح پر بات چیت کیلئے تیار ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار بھی کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو مزید سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔




