Trump's call for allies to send warships to the Strait of Hormuz sparks global debate
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) گلوبل ٹائمز کی خبر کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کی سلامتی ایک بار پھر عالمی بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اتحادی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اہم سمندری گزرگاہ کی حفاظت کے لیے اپنے جنگی جہاز تعینات کریں۔ انہوں نے خاص طور پر چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ کا نام لیتے ہوئے کہا کہ چونکہ ان ممالک کی توانائی سپلائی بڑی حد تک اسی راستے سے گزرتی ہے اس لیے انہیں بھی اس کی حفاظت میں حصہ ڈالنا چاہیے۔
بعض عالمی مبصرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بحران کی اصل وجہ بحری جہازوں کی کمی نہیں بلکہ خطے میں جاری جنگ ہے۔ ان کے مطابق اگر جنگ ختم ہو جائے تو آبنائے ہرمز کی بندش اور عالمی توانائی سپلائی کے خدشات بھی خود بخود کم ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں : عالمی توانائی بحران: جاپان کا 8 کروڑ بیرل تیل ذخائر سے جاری کرنے کا اعلان
چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے بھی اسی مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کویت، بحرین، پاکستان اور قطر کے وزرائے خارجہ سے گفتگو میں کہا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ ایسی صورتحال ہے جو نہیں ہونی چاہیے تھی اور اس سے کسی بھی فریق کو فائدہ نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ کی منظوری کے بغیر ایران پر حملے بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہیں۔
چینی وزیر خارجہ نے زور دیا کہ تمام فریق جلد از جلد مذاکرات کی میز پر واپس آئیں اور برابری کی بنیاد پر بات چیت کے ذریعے اختلافات حل کریں۔ ان کے مطابق بڑی طاقتوں کو خطے میں امن اور استحکام کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق عراق، لیبیا، افغانستان اور شام جیسے تنازعات اس حقیقت کی مثال ہیں جہاں طویل فوجی مداخلت کے باوجود خطہ عدم استحکام کا شکار رہا۔




