Iran's soft stance ahead of Geneva talks, hints at economic benefits in exchange for sanctions
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک رائٹرز کی خبر کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ جوہری معاہدہ اگر طے پاتا ہے تو اس میں دونوں فریقوں کے لیے واضح اقتصادی فوائد شامل ہونے چاہئیں۔ ایرانی حکام کے مطابق پابندیوں میں نرمی کی صورت میں تیل و گیس کے شعبے، مشترکہ توانائی فیلڈز، مائننگ میں سرمایہ کاری اور حتیٰ کہ طیارہ خریداری جیسے معاملات بھی مذاکرات میں زیرِ بحث آ سکتے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان منگل کو جنیوا میں مذاکرات کے ایک نئے دور کی تیاری جاری ہے۔ دونوں ممالک نے رواں ماہ کے آغاز میں ایران کے جوہری پروگرام پر دوبارہ بات چیت شروع کی تھی، جبکہ رائٹرز کے مطابق امریکا نے خطے میں دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھی تعینات کر دیا ہے اور امریکی حکام نے مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں طویل فوجی کارروائی کے امکان کی تیاری کا بھی عندیہ دیا ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ میں اقتصادی سفارتکاری کے نائب ڈائریکٹر حمید غنبری نے فارس نیوز ایجنسی سے گفتگو میں کہا، معاہدے کی پائیداری کے لیے ضروری ہے کہ امریکا بھی ایسے شعبوں میں فائدہ حاصل کرے جہاں زیادہ اور فوری اقتصادی منافع ممکن ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ 2015 کے جوہری معاہدے میں امریکی اقتصادی مفادات محفوظ نہیں ہو سکے تھے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے براتسلاوا میں نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ صدر ٹرمپ سفارتکاری اور مذاکراتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن یہ بھی واضح ہے کہ معاہدہ نہ بھی ہو سکے۔ روبیو نے کہا، اب تک کوئی بھی ایران کے ساتھ کامیاب معاہدہ نہیں کر سکا، مگر ہم کوشش کریں گے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے بی بی سی کو بتایا کہ ایران پابندیوں میں نرمی کے بدلے اپنے جوہری پروگرام پر لچک دکھانے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق اب گیند امریکا کے کورٹ میں ہے کہ وہ ثابت کرے کہ واقعی معاہدہ چاہتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اپنی سب سے زیادہ افزودہ یورینیم کو کم درجے پر لانے پر غور کر سکتا ہے، لیکن ایران صفر یورینیم افزودگی کی شرط قبول نہیں کرے گا۔
ادھر ایران کی وزارتِ خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی جنیوا روانہ ہو چکے ہیں، جہاں وہ امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے علاوہ آئی اے ای اے اور دیگر حکام سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اقتصادی دباؤ بھی بڑھا رہا ہے اور ایکسیوس کے مطابق صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ایران کی چین کو تیل برآمدات کم کرنے کی کوشش کی جائے۔ چین ایران کی تیل برآمدات کا 80 فیصد سے زائد حصہ خریدتا ہے، اس لیے اس تجارت میں کمی ایران کی آمدن پر بڑا اثر ڈال سکتی ہے۔




